بہارمیں208 نئے ڈگری کالجوں کا قیام: اردو کی اسامیاں صفر
بہارمیں208 نئے ڈگری کالجوں کا قیام:
اردو کی اسامیاں صفر
از: ڈاکٹر محمد حسین۔ جے نگر ،مدھوبنی
اردو زبان اپنی ہی جنم بھومی میں بارہا لسانی تعصب اور سیاسی عصبیت کا شکار ہوتی رہی ہے۔ اسے کبھی "غیروں کی زبان" قرار دیا گیا تو کبھی اسے صرف ایک مخصوص طبقے تک محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔ تازہ ترین افسوسناک صورتحال ریاست بہار میں سامنے آئی ہے، جہاں حکومت نے 208 نئے ڈگری کالجز کے قیام کی منظوری تو دے دی ہے، لیکن ان کالجوں کے تعلیمی ڈھانچے سے اردو، عربی اور فارسی جیسے مضامین کو یکسر خارج کر دیا گیا ہے۔ ماضی میں حکومتی سطح پر اردو دشمنی کا یہ عالم ہوتا تھا کہ اسامیوں میں کٹوتی کر دی جاتی تھی یا کوئی قانونی گتھی الجھا دی جاتی تھی، لیکن اس بار تو نہایت دیدہ دلیری کے ساتھ ریاست کی دوسری سرکاری زبان اردو کے وجود کو ہی مٹانے کی کوشش کی گئی ہے۔ 208 کالجوں میں اردو کے ایک بھی اسسٹنٹ
پروفیسر کی نشست مختص نہ کرنا کھلے طور پر تعصب کا مظاہرہ ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اپنی ہر مدتِ کار میں "7-عزائم" (سات نیشچے) کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔ 2025 کے انتخابات کے پیشِ نظر انہوں نے "سات عزائم-3" کے تحت( "اُنّت شِکچھا، اُججوَل بھَوِیشیے" (بہتر تعلیم، روشن مستقبل) کا ہدف بھی مقرر کیا۔ اسی منصوبے کے تحت ریاست کے ان 208 بلاکس کی نشاندہی کی گئی جہاں اب تک کوئی ڈگری کالج موجود نہیں ہے۔ مقصد یہ تھا کہ دیہی علاقوں کے طلبہ کو ان کی دہلیز پر اعلیٰ تعلیم میسر آئے۔
تاہم، اسی دوران سیاسی منظرنامہ تبدیل ہوا۔ نتیش کمار نے راجیہ سبھا کی رکنیت اور قومی سیاست کی جانب رخ کرنے کا فیصلہ کیا اور 14 اپریل 2026 کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اگلے ہی روز بی جے پی کے سمراٹ چودھری نے بہار کے نئے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا۔
سمراٹ چودھری کی قیادت میں 29 اپریل 2026 کو منعقدہ پہلی کابینہ میٹنگ میں 63 ایجنڈوں کو منظوری دی گئی۔ اس میں سیریل نمبر 49 پر محکمہ اعلیٰ تعلیم کا وہ منصوبہ بھی شامل تھا جس کے تحت 208 نئے کالجوں میں مجموعی طور پر 9152 تدریسی و غیر تدریسی اسامیاں منظور کی گئیں۔ عوام نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا کہ نئے وزیر اعلیٰ نے اعلیٰ تعلیم کے لیے ڈگری کالج کے قیام کو ترجیح دی، لیکن جب 30 اپریل کو محکمہ تعلیم کی جانب سے تفصیلات
سامنے آئیں تو اردو حلقوں میں صفِ ماتم بچھ گئی۔
مکتوب کے مطابق 6656 اسسٹنٹ پروفیسرز اور 2496 غیر تدریسی ملازمین کی اسامیاں وضع کی گئیں اور اس کے لیے 937 کروڑ روپے سے زائد کا سالانہ بجٹ بھی مختص کیا گیا ہے، مگر حیرت انگیز طور پر ان میں اردو کا نام و نشان تک نہیں۔
یہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ تشویشناک ہے کہ خود حکومت کے گزشتہ ریکارڈ اس کے برعکس ہیں۔ 17 جون 2025 کو محکمہ تعلیم نے ایک مکتوب نمبر M 15/1-09/2025-2450) جاری کیا تھا، جس میں 8 اضلاع (مغربی چمپارن،
ویشالی، بیگوسرائے، گیا، کیمور، بانکا، مونگیر اور جموئی)کے مجوزہ کالجوں کے لیے ہر کالج میں اردو کے 2 اسسٹنٹ پروفیسروں کی اسامیوں کا واضح ذکر تھا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپریل 2026 تک پہنچتے پہنچتے ایسا کیا انقلاب آگیا کہ اردو کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا؟ اردو صرف ایک زبان نہیں، بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے۔ حکومت کا یہ رویہ نہ صرف لسانی بددیانتی ہے بلکہ اپنے ہی طے کردہ اصولوں سے انحراف بھی ہے۔
دیہی علاقوں میں کالجوں کا قیام بلاشبہ ایک انقلابی قدم ہے، جس سے بالخصوص طالبات کو فائدہ ہوگا جنہیں دوری اور سیکیورٹی کے مسائل کی وجہ سے تعلیم چھوڑنی پڑتی تھی۔ لیکن کیا ان کالجوں میں اردو آبادی کے ڈھائی کروڑ افراد کو اپنی مادری اور سرکاری زبان پڑھنے کا حق نہیں ہوگا؟ اردو کے ساتھ ساتھ عربی، فارسی، سنسکرت اور میتھلی جیسے کلاسیکی و مقامی مضامین کو خارج کرنا علمی بددیانتی ہے۔اس سے ایک بڑی آبادی کوان کی زبان اور ثقافت سے محروم کرنے کی منصوبہ بندی میں اٹھایا گیا قدم معلوم ہوتا ہے۔
دہلی میں جب تک شیلا دکشت وزیر اعلیٰ رہیں تب تک دہلی کے اسکولوں میں اردو اور پنجابی کی ویکینسی نا کے برار نکلیں۔ اور سنسکرت کی ویکینسی خوب آئی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اردو پڑھنے والے بچوں کو بھی اردو منتخب کرنے نہیں دیا جاتا تھا کیوں کہ اسکول انتظامیہ کے پاس معقول عذر ہوتا تھا کہ اردو کے اساتذہ ہی نہیں تو ہم اردو کی تدریس کا انتظام کیسے کریں گے۔ مجبوراً اردو منتخب کرنے کی خواہش رکھنے والے طلبہ بھی سنسکرت اختیار کرنے کو مجبور ہوئے۔
بہار کےاسکولوں میں اگر چہ اردو کے اساتذہ کی بھی خاصی تعداد میں تقرری ہوئی ہے۔ لیکن کالج کو اردو سے محروم کیوں کیا جا رہا ہے۔ جب اساتذہ ہی نہیں ہوں گے تو پھر اس زبان کو منتخب کرنے کا آپشن ہی نہیں رہے گا۔ اس طرح ایک زبان اور ثقافت کی جڑیں آہستہ آہستہ کھوکھلی ہو جائیں گی۔
حالانکہ بہار کے اسکولوں میں حال کے دو تین برسوں میں اردو
اساتذہ کی خاصی تعداد میں تقرری ہوئی ہے۔ حکومت بہار نے بی پی ایس سی کے ذریعے سبھی اسکولی مضامین کے دو لاکھ سے زائد اساتذہ کی تقرری کی ہے۔جن میں ٹی
آر ای 1 میں پرائمری سطح پر اردو کے 7797 ہائی اسکول سطح پر اردو کے 1612 اور پلس ٹو اسکولوں میں 145 اردو اساتذہ کی تقرری ہوئی ایسے ہی ٹی آر ای :2 میں 1320 پرائمری 1551 مڈل اسکول 1222 ہائی اسکول اور 1636 پلس ٹو لیول کے اردو اساتذہ کی تقرری ہوئی ہے. Tre :3 میں پرائمری سطح پر 3054 مڈل اسکول 1027 ہائی اسکول 807 اور پلس ٹو میں 586 اردو اساتذہ کی تقرری ہوئی ہے. ان سب کو جوڑا جائے تو 20757 اردو اساتذہ کی بحالی بی پی ایس سی کے تین امتحانات کے ذریعے ہوئی ہے. ایسے ہی حالیہ برسوں میں بہار کے بلاک، سب ڈویژن ضلع کلکٹریٹ کے علاوہ دیگر محکموں کے لیے تقریباً 142 اردو مترجمین اور 1294 سیٹوں پر معاون اردو مترجمین کی بھی تقرری ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں کالج کی بات کریں تو
بی پی ایس سی نے بہار کی مختلف یونی ورسٹیوں اور Constituentکالجز میں 3364اسسٹنٹ پروفیسرز کے عہدوں پر بحالی کے لیے 15؍ستمبر2014کو
جو اشتہار جاری کیا تھا.۔اس
میں اردو کی 102 ویکینسی تھی. یہ الگ بات ہے کہ مکمل 102 ویکینسی پر تقرری نہیں ہوئی۔
ایسے
ہی 2020 میں بہار یونیورسٹی سروس کمیشن کے ذریعے جاری اشتہار میں مختلف مقدمات کے بعد ترامیم کے ذریعے اردو کی کل 100 اسسٹنٹ پروفیسرز کی تقرری کے لیے انٹرویوز ہوئے نتائج کے بعد جتنے بھی
منتخب ہوئے ان کی جوائننگ بھی 2024-25 میں مکمل ہو گئی۔ لیکن اب 208 نئے کالج میں سرے سے اردو کی ایک بھی اسامی وضع نہ کرنا بالکل سمجھ سے پرے ہیں۔
موجودہ حکومت میں جے ڈی یو (JDU) اب بھی ایک اہم شراکت دار ہے۔ جے ڈی یو کی قیادت والی سرکار میں ہی اسکول سے لے کر کالج، یونیورسٹی تک اردو اساتذہ کی تقرری ہوئی ہے، لہٰذا جے ڈی یو کے مسلم قائدین — مولانا غلام رسول بلیاوی، خالد انور اور زماں خان — پر خاص طور سے یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کو فوری طور پر اعلیٰ حکام اور سابق وزیر اعلیٰ کے گوش گزار کرتے ہوئے نو تعمیر 208 ڈگری کالج میں اردو اسسٹنٹ پروفیسر کی اسامیوں کی توضیع کو یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کریں۔ساتھ
ہی تمام محبانِ اردو اور سول سوسائٹی کو چاہیے کہ وہ اس ناانصافی کے خلاف جمہوری آواز بلند کریں اور حکومتِ وقت سے مطالبہ کریں کہ ان 208 کالجوں میں اردو کی اسامیوں کو فی الفور بحال کیا جائے، تاکہ "بہتر تعلیم اور روشن مسقتبل کا خواب لسانی تفریق کے بغیر شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں