ع
بیٹھتا ہے کون اب کہ جنوری کی دھوپ میں.
(سرور پنڈولوی)
جنوری کی یخ بستہ صبحوں اور سرد ہوا کے جھونکوں میں دنیا کے بے شمار کامگاروں کی طرح میں بھی روزانہ صبح سویرے اپنی مزدوری پر نکل جاتا ہوں. جے نگر ریلوے اسٹیشن سے ٹرین کے ذریعے اپنے ضلع کے جنوب میں واقع پنڈول اسٹیشن پر اتر جاتا ہوں. وہاں سے میرے کارگہ عمل کی مسافت 12 کیلومیٹر ہے. جس کےلیے پنڈول کے ہمارے رفیق کار شاہنواز محمد کے ہم رکاب ان کی دو پہیہ کے ذریعے دھندھ سے دو دو ہاتھ کرتے ہوئے بل کھاتی سڑکوں اور سرد ہواؤں کے دریا کو عبور کرتے ہیں.
خیر بات یوں ہے کہ پنڈول میں ہمارے ضلع کے معروف شاعر م سرور پنڈولوی کی رہائش گاہ ہے. ایک دن کے فیس بک پوسٹ سے انہیں خبر ہو گئی کہ میں روزانہ ان کے دروازے سے گزرتا ہوں. انہوں نے شکوہ کیا کہ ان سے ملے بغیر ان کے دروازے سے گزر جاتا ہوں. تو ان کی شکایت دور کرتے ہوئے پچھلے تین دنوں سے ملاقات کا سلسلہ جاری ہے. وقت کی تنگی ہوتی ہے پھر بھی ملاقات کا موقع نکال لیا.
ایک دن کی ملاقات میں انہوں نے اپنا شعری مجموعہ "جزیرہ، خوابوں کا" عنایت کیا. سرور پنڈولوی صاحب سائنس اور ریاضی کے مرد میدان ہیں لیکن اردو انہیں خاندانی وراثت میں ملی ہے اور طبعی ذوق نے انہیں شاعر بھی بنا دیا. جن دنوں میں دہلی میں پی ایچ ڈی کی تھیسس لکھ رہا تھا ان دنوں اپنے ضلع مدھوبنی کی ادبی و شعری فضا کا جائزہ لیا تو مجھے اپنی کم علمی کا احساس ہوا کہ میں اپنے ضلع کے کسی شاعر کے نام سے بھی واقف نہیں تھا، لیکن اردو زبان سیل مدھوبنی کے تحت منعقد ہونے والے فروغ اردو سیمینار نے اپنے ضلع کے متعدد شعرا سے واقفیت بہم پہنچائی. ان میں سرور پنڈولوی صاحب بھی ہیں. اور حیران کن خوشی بھی ہوئی کہ سائنس اور ریاضی کے بہترین استاد ہونے کے ساتھ اردو کی شعری روایت کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں. ضلع اور ریاست سے باہر کے مشاعروں میں شرکت کرتے ہیں. اردو کے نمائندہ اخبارات و رسائل( روزنامہ انقلاب، قومی تنظیم اور اخبار مشرق وغیرہ) میں ان کی غزلیہ، نظمیہ شاعری کے علاوہ طنزیہ و مزاحیہ تخلیقات بھی شائع ہوتی رہتی ہیں. آکاشوانی کے مشاعروں میں شعر خوانی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں. اس لیے ان کے شعری مجموعے کی ورق گردانی کرتے ہوئے کبھی کبھی ان کے اشعار میں ریاضی اور سائنس کی اصطلاحات تشبیہ و استعارہ کے بطور جگہ پاتی ہیں. جیسے اس شعر میں ریاضی کے نقطے اور پرکار (Compass) کو دیکھیں.
بتاؤں مجھ سے کیسا ہے مرے دلدار کا رشتہ
کہ جیسے ایک 'نقطے' سے کسی 'پرکار' کا رشتہ
طنز و ظرافت کا مزاج بھی رکھتے ہیں اس لیے طنزیہ و مزاحیہ مضمون لکھتے رہتے ہیں. حال ہی میں "ڈاگڈر بابو" کے عنوان سے ایک طنزیہ و مزاحیہ مضمون میں نے ان کی فیس بک وال پر پڑھا جو کسی اخبار میں شائع ہوا ہے. مزاحیہ شاعری بلکہ مزاحیہ غزلیں بھی لکھتے ہیں.
روزنامہ راشٹریہ سہارا میں شائع ان کی مزاحیہ غزل سے یہ اشعار ملاحظہ کریں.
مشاعروں سےالگ کُچھ توکام وام کریں
یہ کیاکہ شعروسخن میں ہی اپنانام کریں
چراتےرہتے ہیں اوروں کے مصرعےجو سرور
وہ شعر گوئی کو اپنے لیے حرام کریں
سیاست اور حالات حاضرہ پر بھی اپنے اشعار سے کاری وار کرتے ہیں.
ہوا تھا کل جو دھماکہ وطن میں، اہل وطن
ہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا.
.
ملا ہے منصب، خیال رکھو عوام کا بھی خواص کا بھی
ہمیشہ رتبہ نہیں رہے گا، تمہارا عہدہ نیا نیا ہے.
وہ من کی بات دکھاوے کو یونہی کرتا ہے
مگر ہے دل سے ہمیں تو لیا نشانے پر.
...
زندگی اور زندگی کی تلخ حقیقت پر سرور صاحب کے اشعار ملاحظہ کریں.
روز مر جاتا ہوں میں تجھ کو بنانے کے لیے
زندگی اور کیا تو اس کے سوا چاہتی ہے.
.
دن گزر جاتا ہے اپنا تو کسی طرح مگر
شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے.
رواں اور سہل ممتنع کی شاعری دیکھیں.
میری آنکھوں میں خواب رہنے دو
کچھ تو جینے کا باب رہنے دو.
آگ تم لگاؤ دنیا میں
میرے حصے میں آب رہنے دو.
ہندو اساطیر بھی ان کی شاعری میں جگہ پاتے ہیں.
خالی دامن دیکھ کر بس ظلم کی ہی آگ کو
آج کا ہر رام، سیتا کے حوالے کر گیا.
مجموعے کے متعدد اشعار ایسے ہیں جو زبان زد ہو سکتے ہیں.
ہاتھوں میں تو گلدستہ نظر آیا تھا اس کے
جو اس نے چھپا رکھا تھا خنجر نہیں دیکھا.
مجھ کو پیوند نہ احساں کا لگانے آیا
ٹاٹ اپنی تو جھلکتی رہی مخمل کی طرح.
دریا تمہاری دریا دلی کا بھی شکریہ
پیاسے ہی لوٹ آئے ترے درمیاں سے ہم.
گلچیں کا کچھ گلہ بھی تو بیکار ہے میاں
لُٹتے رہے ہمیشہ یہاں باغباں سے ہم.
اگلے دن کی ملاقات میں اپنی کتاب "شفیق فاطمہ اور گلّہ صفورہ" ان کی خدمت میں پیش کیا ۔
تاریخ ۸ جنوری ۲۰۲۶۔


















