بہارمیں208 نئے ڈگری کالجوں کا قیام: اردو کی اسامیاں صفر
بہارمیں 208 نئے ڈگری کالجوں کا قیام : اردو کی اسامیاں صفر از : ڈاکٹر محمد حسین۔ جے نگر ،مدھوبنی اردو زبان اپنی ہی جنم بھومی میں بارہا لسانی تعصب اور سیاسی عصبیت کا شکار ہوتی رہی ہے۔ اسے کبھی " غیروں کی زبان " قرار دیا گیا تو کبھی اسے صرف ایک مخصوص طبقے تک محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔ تازہ ترین افسوسناک صورتحال ریاست بہار میں سامنے آئی ہے، جہاں حکومت نے 208 نئے ڈگری کالجز کے قیام کی منظوری تو دے دی ہے، لیکن ان کالجوں کے تعلیمی ڈھانچے سے اردو، عربی اور فارسی جیسے مضامین کو یکسر خارج کر دیا گیا ہے۔ ماضی میں حکومتی سطح پر اردو دشمنی کا یہ عالم ہوتا تھا کہ اسامیوں میں کٹوتی کر دی جاتی تھی یا کوئی قانونی گتھی الجھا دی جاتی تھی، لیکن اس بار تو نہایت دیدہ دلیری کے ساتھ ریاست کی دوسری سرکاری زبان اردو کے وجود کو ہی مٹانے کی کوشش کی گئی ہے۔ 208 کالجوں میں اردو کے ایک بھی اسسٹنٹ پروفیسر کی نشست مختص نہ کرنا کھلے طور پر ...