جمعرات، 12 فروری، 2026

ڈاکٹر شمشیر علی کے ساتھ جنک پور نیپال کی سیر


ڈاکٹر محمد حسین

جے نگر مدھوبنی 

12/02/2026 


ہمارے ضلع مدھوبنی کے پرانے ساتھی ڈاکٹر شمشیر علی مصباحی پہلی بار ہمارے گھر بلکہ ہمارے شہر جے نگر تشریف لائے. ڈاکٹر صاحب فی الوقت پورنیہ ضلع میں اردو مترجم کے عہدے پر فائز ہیں. اس سے قبل دربھنگہ سی ایم آرٹس کالج میں  تدریسی خدمات بھی انجام دے چکے ہیں. شمشیر بھائی حافظ قرآن بھی ہیں اور عالم دین بھی ہیں. جامعہ اشرفیہ مبارکپور سے دینیات کی تعلیم حاصل کی ہے. پھر عصری تعلیم کے لیے انہوں نے  علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا. علی گڑھ سے بی اے ایم اے، پی ایچ ڈی تک کا تعلیمی سفر مکمل کیا.ان کے تحقیقی و ادبی مضامین ملک کے معیاری رسالوں میں شائع ہوتے رہتے ہیں. ان کی ایک تحقیقی کتاب "اردو صحافت : جنگ آزادی اور قومی یکجہتی" شائع ہو چکی ہے. خوشی کی بات یہ ہے کہ شمشیر بھائی ہمارے ضلع کے جنوبی خطے میں دربھنگہ ضلع کی سرحد پر واقع گاؤں شکری سے تعلق رکھتے ہیں اور میں ایک دم شمال میں نیپال کی سرحد پر واقع جے نگر سے تعلق رکھتا ہوں. شمیشر بھائی کا ہمارے علاقے کی طرف کبھی آنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا. دو چار دنوں کی رخصت میں گھر آئے تھے تو انہوں نے خواہش ظاہر کی. میں نے کہا خیر مقدم ہے. اور یوں 8 فروی اتوار کا دن شمشیر بھائی کے ساتھ گزرا. جے نگر تو آئے ہی ساتھ ہی ہم نے کہا کہ پاس میں (جے نگر سے تقریباً 30 کیلو میٹر دور) نیپال کا ایک تاریخی شہر جنک پور ہے وہاں بھی ہو لیتے ہیں اس طرح شمیشر بھائی کا ایک بین الاقوامی سفر بھی ہو جائے گا (وہ بھی بنا پاسپورٹ اور ویزہ کے) صبح سخت سردی تھی، دھند بھی بہت زیادہ تھی اس لیے دو پہیے کا ارادہ ترک کر کے ہم نے ٹرین کی سواری کا انتخاب کیا. جے نگر سے جنکپور (نیپال) ٹرین کی سروس حکومت ہند کے اشتراک سے بحال ہے. ایک سوا گھنٹے میں ہم جنکپور پہنچ گئے. وہاں  اسٹیشن پر استاد محترم قاضی نیپال مفتی محمد عثمان برکاتی مصباحی کے صاحب زادے مجتبی ہمارے انتظار میں تھے. مفتی صاحب کے قائم کردہ ادارے مدرسہ فیضان مدینہ میں ہم نے کچھ وقت گزارا، مفتی صاحب سے مختلف دینی، علمی اور ملّی امور پر فکر انگیز باتیں ہوئیں. پھر مفتی صاحب کی دو پہیہ لے کر شمشیر بھائی کو شہر کی سیر پر لے گیا. 1999 سے قبل سے جنکپور آنے جانے کا سلسلہ رہا ہے . اس شہر میں اُن دنوں بھی بازار کی چمک دمک تھی اور آج بھی ہے. ہم جنکپور کے مشہور سیاحتی مقام ہندوؤں کے مقدس مندر، جانکی مندر پہنچے. ماضی قریب تک نیپال کا ماحول اتنا پر امن تھا کہ میرا بچپن باضابطہ کرتا پاجامہ ٹوپی میں اس مندر کے احاطے میں گزرا ہے. کوئی روک ٹوک نہیں. لیکن ان دنوں ہندوستان کی طرح نیپال جیسے پر امن ملک میں بھی فضا قدرے زہریلی ہو گئی ہے. چوں کہ ہم دونوں کی وضع قطع ایسی ہے کہ دور سے ہم مسلمان پہچان لیے جائیں. اس لیے ذرا احتیاط سے وسیع و عریض احاطے میں ایک دم سڑک سے لگے حصے میں تھوڑی دیر کے لیے کھڑے ہوئے اس تاریخی مندر کے آرکیٹیکچر کو نہارے، مغل اور راجپوت فن تعمیر  میں 60 کمروں پر مشتمل تین منزلہ عمارت اب بھی دیدہ زیب ہے. 1910- 1911 میں ٹیکم گڑھ( مدھیہ پردیش، انڈیا) کی رانی وِرشا بھانو نے تعمیر کرایا تھا. کہا جاتا ہے کہ اس کی تعمیر میں 9 لاکھ چاندی کے سکے لگے تھے اس لیے اس مندر کو عرف عام میں نو لکھا مندر بھی کہتے ہیں. جانکی مندر کی دائیں جانب ایک وسیع وعریض احاطہ میں "بِباہ منڈپ" (شادی منڈپ) ہے.یہاں وِواہ پنچمی (سیتا اور رام کی شادی) کا تیوہار بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے. ایسا مانا جاتا ہے کہ یہاں سیتا اور رام کی شادی ہوئی تھی. اسی یادگار میں بباہ منڈپ بنایا گیا جو بودھ دھرم کی موناسٹری کی طرز تعمیر کی ایک پر کشش عمارت ہے. یہ ایک سیاحتی مقام ہے میں اس بباہ منڈپ میں ٹکٹ لے کئی بار جا چکا ہوں. لیکن اب جانے پر سبھی زائرین ہمیں ہی  گھورنے لگتے ہیں اس لیے ہم نے ہمت نہیں کی. بس جانکی مندر کے باہر والے حصے سے ہی دو چار تصویریں بنائیں اور وہاں سے نکل گئے. جانکی مندر کی بائیں جانب مغربی دیوار کے عین پیچھے ایک مسجد کی عمارت دکھائی دیتی ہے. وہ در اصل نیپال کے مشہور عالم دین حضرت مفتی جیش محمد برکاتی مصباحی( شیر نیپال) کی تعمیر کردہ مسجد اور مدرسہ ہے. مدرسہ کا نام جامعہ حنفیہ غوثیہ ہے. مندر کے بائیں جانب باہر نکل کر دکانوں کے درمیان سے ایک راستہ ہے جو اس مدرسہ کو جاتا ہے. ہم وہاں پہنچے. وہاں پہنچتے ہی مجھے 1999 کے شب و روز یاد آنے لگے. ایک کم سن بچہ جے نگر سے اپنے والدین سے لڑکر  اسکول سے نام کٹوا کر اس مدرسے میں داخلہ لیا، عربی، فارسی اور دینیات کی تعلیم شروع کی، مدرسے کی بود و باش میں رچنے کی جد و جہد کرنے لگا، جہاں کا کھانا گھر کی بہت یاد دلاتا، دال کے نام پر 'ہلدی رنگ پانی' جس میں دال کی تعداد بآسانی گنی جا سکے، کھچڑی جیسا  گیلا چاول ایک کرچھل (بڑا چمچہ) اور سبزی وہ کیا ہے؟ ان ایام میں ہم سبزی جانتے ہی نہیں تھے. صرف دال چاول زندہ باد. کمسنی کے عالم میں جب غریب سے غریب گھر کے بچے والدین کے ناز ونعم میں پلتے ہیں ہم بخوشی یہ کھانا کھا لیتے تھے. کیوں کہ یہاں اساتذہ اور طلبہ بھی یہ تلقین کرتے تھے کہ ہمیں تو دال چاول مل بھی رہا ہے لیکن ہمارے بزرگوں نے فاقہ کر کے علم دین حاصل کیا ہے. اللہ اسی میں برکت دیتا ہے. اور بھی تلخ یادیں ہیں. لیکن ساتھ ہی خوشنما یادیں بھی، خورد و نوش کا جیسا بھی انتظام رہا ہو لیکن اساتذہ بڑے محنتی تھے. اس ایک سال میں عربی و فارسی قواعد کی کتابوں کو ہم نے ازبر کر لیا تھا. گلستاں، بوستاں، وغیرہ کے کئی ابواب پڑھے. اردو خوشخط لکھنا سیکھا. عبد القادر اور طیب علی جیسے مخلص دوست ملے. طیب بھائی کانپور میں ہیں اور عبد القادر سیتامڑھی کے ایک سرکاری مدرسے میں مدرس.
جنک پور شہر مجھے بہت پسند ہے. چوڑی کشادہ اور صاف ستھری سڑکیں. 1999 سے پہلے سے جنکپور میں ایئر پورٹ ہے.جہاں سے نیپال کی گھریلو پروازیں ہیں. ہم اکثر جمعرات کی دوپہر طیاروں کو دیکھنے کے لیے ایئر پورٹ چلے جاتے تھے. خیر یہ یادش بخیریا پھر کبھی........... شمشیر  بھائی کو سیر کرانے لایا تھا. جانکی مندر اور جامعہ حنفیہ غوثیہ کی سیر کرا کے رامانند چوک کی طرف گئے جہاں نیپال کے قومی شاہراہ (جسے یہاں راج مارگ کہتے ہیں) پر ایک دیدہ زیب  مخروطی شکل کا اونچا دروازہ ہے. چوڑی سڑک کے دونوں جانب دو دو موٹے گول ستون ہیں جو ترچھے کمان کی طرح اوپر بڑھتے ہوئے قلب میں ایک مرکزی نقطے پر ایک دوسرے میں گتھم گتھا ہیں. بالائی حصے پر یعنی مرکزی نقطے پر ایک مجسمہ نصب ہے. شاید نیپال کے کسی راجا کا مجسمہ ہے. پھر گھڑی دیکھتے ہوئے اندازہ ہوا کہ ہمیں واپسی کی ٹرین بھی لینی ہے جو نیپالی وقت کے مطابق سوا تین اور ہندوستانی وقت کے مطابق تین بجے ہے. راستے میں ایک ساتھی مولانا عابد مل گئے ان کے ساتھ رام مندر چوک پر ہم نے  بہترین لسّی پی. دوپہر کا کھانا مفتی عثمان صاحب کے گھر پر ہوا. پھر مجتبی' نے ہمیں اسٹیشن پہنچایا. اور کچھ دیر میں ہمیں ٹرین مل گئی. سوا گھنٹے میں جے نگر واپس پہنچ گئے . تھوڑا وقت بچا تھا چائے نوشی ہوئی اور جے نگر کے کملا ندی پر واقعی پل کی سیر ہوئی. پھر شمشیر بھائی کو جے نگر اسٹیشن پر رخصت کیا. جہاں سے انہوں نے اپنے گھر شکری کے لیے ٹرین لے لی. 

شمشیر بھائی کے ساتھ یہ مختصر مگر یادگار سفر رہا. علم دوست حضرات سے ملنے کا یوں ہی سلسلہ جاری رہے تو ہمیں علمی خوراک ملتی رہتی ہے. شکریہ. آتے جاتے رہیں. 

بدھ، 21 جنوری، 2026

م سرور پنڈولوی کی شعری کائنات



 ع 

بیٹھتا ہے کون اب کہ جنوری کی دھوپ میں. 

(سرور پنڈولوی) 

جنوری کی یخ بستہ صبحوں اور سرد ہوا کے جھونکوں میں دنیا کے بے شمار کامگاروں کی طرح میں بھی روزانہ صبح سویرے اپنی مزدوری پر نکل جاتا ہوں. جے نگر ریلوے اسٹیشن سے ٹرین کے ذریعے اپنے ضلع کے جنوب میں واقع پنڈول اسٹیشن پر اتر جاتا ہوں. وہاں سے میرے کارگہ عمل کی مسافت 12 کیلومیٹر ہے. جس کےلیے پنڈول کے ہمارے رفیق کار شاہنواز محمد کے ہم رکاب ان کی دو پہیہ کے ذریعے دھندھ سے دو دو ہاتھ کرتے ہوئے بل کھاتی سڑکوں اور سرد ہواؤں کے دریا کو عبور کرتے ہیں.

خیر بات یوں ہے کہ پنڈول میں ہمارے ضلع کے معروف شاعر م سرور پنڈولوی کی رہائش گاہ ہے. ایک دن کے فیس بک پوسٹ سے انہیں  خبر ہو گئی کہ میں روزانہ ان کے دروازے سے گزرتا ہوں. انہوں نے شکوہ کیا کہ ان سے ملے بغیر ان کے دروازے سے گزر جاتا ہوں. تو ان کی شکایت دور کرتے ہوئے پچھلے تین دنوں سے ملاقات کا سلسلہ جاری ہے. وقت کی تنگی ہوتی ہے پھر بھی ملاقات کا موقع نکال لیا.

ایک دن کی ملاقات میں انہوں نے اپنا شعری مجموعہ "جزیرہ، خوابوں کا" عنایت کیا. سرور پنڈولوی صاحب سائنس اور ریاضی کے مرد میدان ہیں لیکن اردو انہیں خاندانی وراثت میں ملی ہے اور طبعی ذوق نے انہیں شاعر بھی بنا دیا. جن دنوں میں دہلی میں پی ایچ ڈی کی تھیسس لکھ رہا تھا ان دنوں اپنے ضلع مدھوبنی کی ادبی و شعری فضا کا جائزہ لیا تو مجھے اپنی کم علمی کا احساس ہوا کہ میں اپنے ضلع کے کسی شاعر کے نام سے بھی واقف نہیں تھا، لیکن اردو زبان سیل مدھوبنی کے تحت منعقد ہونے والے فروغ اردو سیمینار نے اپنے ضلع کے متعدد شعرا سے واقفیت بہم پہنچائی. ان میں سرور پنڈولوی صاحب بھی ہیں. اور حیران کن خوشی بھی ہوئی کہ سائنس اور ریاضی کے بہترین استاد ہونے کے ساتھ اردو کی شعری روایت کی  شمع روشن کیے ہوئے ہیں. ضلع اور ریاست سے باہر  کے مشاعروں میں شرکت کرتے ہیں. اردو کے نمائندہ اخبارات و رسائل( روزنامہ انقلاب، قومی تنظیم اور اخبار مشرق وغیرہ) میں ان کی غزلیہ، نظمیہ شاعری کے علاوہ طنزیہ و مزاحیہ تخلیقات بھی شائع ہوتی رہتی ہیں. آکاشوانی کے مشاعروں میں شعر خوانی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں. اس لیے ان کے شعری مجموعے کی ورق گردانی کرتے ہوئے کبھی کبھی ان کے اشعار میں  ریاضی اور سائنس کی اصطلاحات تشبیہ و استعارہ کے بطور جگہ پاتی ہیں. جیسے اس شعر میں ریاضی کے نقطے اور پرکار (Compass) کو دیکھیں. 


بتاؤں مجھ سے کیسا ہے مرے دلدار کا رشتہ

کہ جیسے ایک 'نقطے' سے کسی 'پرکار' کا رشتہ


طنز و ظرافت کا مزاج بھی رکھتے ہیں اس لیے طنزیہ و مزاحیہ مضمون لکھتے رہتے ہیں. حال ہی میں "ڈاگڈر بابو" کے عنوان سے ایک طنزیہ و مزاحیہ مضمون میں نے ان کی فیس بک وال پر پڑھا جو کسی اخبار میں شائع ہوا ہے. مزاحیہ شاعری  بلکہ مزاحیہ غزلیں بھی لکھتے ہیں. 

 روزنامہ راشٹریہ سہارا میں شائع ان کی  مزاحیہ غزل سے یہ اشعار ملاحظہ کریں. 

مشاعروں سےالگ کُچھ توکام وام کریں 

یہ کیاکہ شعروسخن میں ہی اپنانام کریں 

چراتےرہتے ہیں اوروں کے مصرعےجو سرور 

وہ شعر گوئی کو اپنے لیے حرام  کریں


سیاست اور حالات حاضرہ پر بھی اپنے اشعار سے کاری وار کرتے ہیں. 

ہوا تھا کل جو دھماکہ وطن میں، اہل وطن 

ہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا. 

ملا ہے منصب، خیال رکھو عوام کا بھی خواص کا بھی 

ہمیشہ رتبہ نہیں رہے گا، تمہارا عہدہ نیا نیا ہے.

وہ من کی بات دکھاوے کو یونہی کرتا ہے 

مگر ہے دل سے ہمیں تو لیا نشانے پر. 

... 

زندگی اور زندگی کی تلخ حقیقت پر سرور صاحب کے اشعار ملاحظہ کریں. 

روز مر جاتا ہوں میں تجھ کو بنانے کے لیے

 زندگی اور کیا تو اس کے سوا چاہتی ہے. 

دن گزر جاتا ہے اپنا تو کسی طرح مگر 

شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے. 


رواں اور سہل ممتنع کی شاعری دیکھیں. 

میری آنکھوں میں خواب رہنے دو 

کچھ تو جینے کا باب رہنے دو.

آگ تم لگاؤ دنیا میں 

میرے حصے میں آب رہنے دو. 


ہندو اساطیر  بھی ان کی شاعری میں جگہ پاتے ہیں. 

خالی دامن دیکھ کر بس ظلم کی ہی آگ کو 

آج کا ہر رام، سیتا کے حوالے کر گیا. 

مجموعے کے متعدد اشعار ایسے ہیں جو زبان زد ہو سکتے ہیں. 

ہاتھوں میں تو گلدستہ نظر آیا تھا اس کے 

جو اس نے چھپا رکھا تھا خنجر نہیں دیکھا. 

مجھ کو پیوند نہ احساں کا لگانے آیا 

ٹاٹ اپنی تو جھلکتی رہی مخمل کی طرح. 

دریا تمہاری دریا دلی کا بھی شکریہ 

پیاسے ہی لوٹ آئے ترے درمیاں سے ہم. 

گلچیں کا کچھ گلہ بھی تو بیکار ہے میاں 

لُٹتے رہے ہمیشہ یہاں باغباں سے ہم. 


  اگلے دن کی ملاقات میں اپنی کتاب "شفیق فاطمہ اور گلّہ صفورہ" ان کی خدمت میں پیش کیا ۔

تاریخ ۸ جنوری ۲۰۲۶۔ 

پیر، 29 دسمبر، 2025

"شاد کا نظریہ آغاز زبان اردو" کا حاصل مطالعہ








رسالہ آج کل سائز میں مختصر ضرور ہوا ہے لیکن اس کے معیاری مشمولات میں تخفیف نہیں ہوئی ہے. اکتوبر، نومبر 2025 کا شمارہ مجھے ایک ساتھ دستیاب ہوا ہے. اس لیے دسمبر کے ماہ میں اکتوبر کے شمارہ سے آغاز کر رہا ہوں. اس شمارہ میں اکثر قلم کاروں کے نام میرے لیے اجنبی نہیں ہیں، ڈاکٹر ہمایوں اشرف، ڈاکٹر قسیم اختر، حامد رضا صدیقی، عبدالرزاق زیادی، خورشید اکرم، صدر عالم گوہر وغیرہ وہ نام ہیں جن کی تحریروں کے علاوہ ان سے ذاتی طور پر بھی ملاقات بات بھی رہی ہے. سب جانے پہچانے ہیں. اس شمارہ میں اداریہ کے بعد پہلا مضمون ڈاکٹر محمد منہاج الدین کا ہے. مضمون کا عنوان "شاد عظیم آبادی کا نظریہ آغاز زبان اردو" ہے. مضمون کے عنوان نے مجھے اس مضمون کو بغور پڑھنے پر آمادہ کر لیا. مضون کے اولین دو صفحات پڑھتے ہوئے میرا تجسس بڑھتا گیا کیوں کہ دو صفحات تک شاد کے نظریہ کی تلاش جاری تھی.. اولین دو صفحات میں ڈاکٹر منہاج الدین نے پاننی کے اشٹادھیائے سے لے کر، میر امن کے باغ و بہار، سرسید کے آثار الصنادید، سراج الدین علی خان آرزو کے "مُثمِر"، رائل ایشاٹک سوسائٹی کے سالانہ جلسہ میں دیے گئے سر ولیم جونز کے خطبہ، امام بخش صہبائی کے "قواعد صرف و نحو اردو" سے لے کر محمد حسین آزاد کی آب حیات اور سخندان فارس تک کی ورق گردانی کر کے زبان اور آغاز زبان کے نظریات کا سرسری جائزہ پیش کیا ہے. یعنی سنسکرت کے ماہرین علم لسان سے لے کر یورپی زبانوں کے ماہرین علم لسان اور اردو کے ماہرین علم لسان تک کے نظریات کو کھنگال ڈالا.

ادھر میرا تجسس بڑھتا جا رہا تھا تبھی دو صحفہ کی تکمیل سے پہلے ہی ڈاکٹر منہاج نے Curtain Raiser کے بطور شاد صاحب کی تصنیفات "نوائے وطن" اور "فکر بلیغ" سے پردہ اٹھایا. جو بالترتیب 1884 اور 1929 میں شائع ہوئے. پھر ان دونوں کتابوں کے حوالے سے ہی شاد عظیم آبادی کے نظریہ آغاز زبان اردو پر بھرپور بحث کی ہے. اس مضمون کو پڑھنے کے بعد اس کا ما حصل کچھ یوں ہے.

مضمون کا ماحصل

# اردو کا نقطہ آغاز شاد عظیم آبادی نے گیارہویں صدی کو مانا ہے جس صدی میں بودھ دھرم کا شیرازہ منتشر ہو رہا تھا. محمود غزنوی کے متواتر حملے ہو رہے تھے، شہاب الدین غوری ہندوستان پر لشکر کشی کر رہا تھا.

# اردو کی جائے پیدائش بہار ہے.

# پالی پراکت (جسے ماگدھی بھی کہتے ہیں) کے ساتھ مل کر اردو کا ہیولی' تیار ہوا.

#اردو کا ہیولی' ماگدھی، پراکرت سے ہوتے ہوئے مسلمانوں کی آمد کے بعد (پٹنہ) بہار میں تیار پوا.

# اردو زبان کی اصلیت اور ڈھانچ کے اندر زبان فارسی وغیرہ نہیں ہے. یہ زبان ہندوستانی ہے اور ہندوستانی ہی اس کے مالک ہیں.

#یہ گمراہ کن نظریہ ہے کہ "مسلمانوں کی فاتح فوج کے بازار میں یہ زبان پیدا ہوئی اس لیے اس کا نام زبان اردو ہوا"

#اردو کی تعمیر و تشکیل میں فارسی کے ساتھ عربی، ترکی یا سنسکرت کا عمل دخل نہیں ہے.

البتہ

#اردو کا نو رتن فارسی، عربی، بھاشا، سنسکرت، پنجابی، ترکی، پشتو کے جواہرات سے مرصع ہے.

#شاد نے بہار کے مختلف علاقوں میں بولی جانے والی اردو کو غیر فصیح اور خاص عظیم آباد کے امرا و شرفا کی اردو زبان کو فصیح زبان قرار دیا ہے.

----------------------------------------------------------

میرا خیال ہے کہ اردو زبان کی ابتدا سے متعلق شاد عظیم آبادی کے نظریات کا محاسبہ ہونا چاہیے. ان کے خیالات پر بحث کی بھر پور گنجائش ہے. ان کے نظریے سے اختلاف یا اتفاق دونوں صورتوں میں آغاز زبان سے متعلق کچھ نئے مباحث کے دروازے ضرور کھلیں گے. پالی زبان کے تعلق سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے. شاد عظیم آبادی نے پالی زبان کے جانکار کے معدوم ہونے کی بات لکھی ہے. جو درست بھی ہے. لیکن دوسری حیران کن بات یہ ہے کہ بہار کے اسکولی نصاب میں بطور اختیاری زبان پالی بھی ہے. بہار میں اسکول اساتذہ اور یونیورسٹی لیکچرار کی تقرری میں کچھ پالی کے اساتذہ کی بھی تقرری ہوئی ہے.مجھے نہیں معلوم کی یہ زبان اسی شکل میں موجود ہے جو گیارہویں صدی تک رہی ہوگی. البتہ ہم میں سے کوئی یہ زبان سیکھے تو شاید پالی اور اردو زبان کے رشتے پر با ضابطہ تحقیق کا دروازہ کھلے.

مضمون پڑھتے ہوئے بعض اوقات کچھ غیر ضروری پیراگراف سے موضوع کے تسلسل میں خلل محسوس ہوا. 'نوائے وطن' کے حوالے سے راسخ اور میر کی ملاقات کا قصہ اس موضوع سے کچھ خاص میل نہیں کھاتا. اور یہ بھی کہ پورے صفحے کے ایک کالم کا اقتباس پڑھنے کے بعد بھی ہمیں سمجھ نہیں آیا کہ میر صاحب کی ملاقات کس سے ہو رہی ہے. اخیر کی سطر میں "راسخ مرحوم کو گلے لگایا" سے وضاحت ہوئی. پھر بھی مجھے نہیں لگتا کہ شاد کے نظریہ آغاز زبان میں اس اقتباس کی چنداں ضرورت ہے.

زبان کی فصاحت و بلاغت پر شاد کے نظریات پر اچھی گفتگو ہوئی ہے. میرا خیال ہے کہ اس بحث سے پہلے "زبان کی فصاحت و بلاغت سے متعلق شاد کا نظریہ" جیسا کوئی ایک سرنامہ /ذیلی عنوان قائم کرلیتے تو زیادہ بہتر ہوتا. 'زبان کی اصلیت اور تشکیل سے متعلق بحث' سے پہلے بھی ذیلی عنوان کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے.

کمپوزنگ اور پروف ریڈنگ کی کمی نے بھی ذرا طبیعت مکدر کی.'آج کل' جیسے معیاری رسالے میں اس طرح پروف ریڈنگ کی کمی رہ جانا افسوسناک ہے. باقی محنت اور تحقیق سے لکھا گیا مضمون ہے اس کی ستائش تو ہونی چاہیے. ڈاکٹر منہاج صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں. لکھنے کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے.



(کانپور اور علی گڑھ کے درمیان دہلی کے سفر میں)





21-12-2025


جمعرات، 3 ستمبر، 2020

بہار کے ہائی اسکول سے اردو غائب کرنے کا ماسٹر پلان

بہار کے ہائی اسکول سے اردو کوغائب کرنے کا ماسٹر پلان

        محمد حسین

ریسرچ اسکالر،شعبہ اردو،دہلی یونی ورسٹی۔

ای میل: hussaindu21@gmail.com

بہار کے اردو حلقے میں محکمہ تعلیم کے  ایک حکم نامے کی وجہ سے بے چینی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ محکمہ تعلیم نے۔15،مارچ2020ء کو ایک حکم نامہ  جاری کیا ہے)فائل نمبر-11: -/799یہ حکم نامہ در اصل  ہائی اسکولوں میں اساتذہ کی تقرری اور نشستوں کی تعداد میں پہلے سے موجود ضوابط میں ترمیم سے متعلق   ہے۔

اس حکم نامے  میں مذکور ہے کہ پہلے بہار کے  ہائی اسکولوں میں کلاس ۶سے دسویں جماعت تک کی تعلیم  ہوتی تھی اسی طرح 8 ویں جماعت سے10 ویں جماعت تک کی تعلیم ہوا کرتی تھی ۔جس میں  کچھ عرصہ پہلے ہی تبدیلی آچکی ہے اب ہائی اسکول میں 9 ویں اور10 ویں جماعت کی ہی تعلیم کا نظم ہے۔ حکومت بہار نے اسی تبدیلی کو دلیل بنا کر اساتذہ کی اسامیوں اور تقرریوں کے سلسلے میں پہلے سے  موجوداصولی  پیمانے (مانک منڈل)میں بھی تبدیلی کر دی۔کیوں کہ پہلے ہائی اسکول میں 6 سے 10 تک کی تعلیم کا نظم تھا اس لیے اساتذہ کی پوسٹ بھی اسی اعتبارسے وضع کی گئی تھی۔ اس وقت اساتذہ کی تقرری کے لیے ایک مانک منڈل (اصولی پیمانہ) اختیارکیا گیا تھا جس کے مطابق ہائی اسکول میں 8+1(یعنی 8 معاون ٹیچر اور ایک صدر مدرس) یا پھر 9+1(یعنی 9 معاون ٹیچر اور ایک صدر مدرس) کا نظم تھا۔تقرری کا یہ اصولی پیمانہ اب تک قابل عمل تھا جب کہ ہائی اسکول میں اب 6 سے 10 ویں جماعت تک کی تعلیم کانظم بر قرار نہیں رہا۔اب ہائی اسکولوں میں  صرف 9 ویں اور10 ویں کی تعلیم ہوتی ہے۔ایسی صورت میں اساتذہ کی تعداد کا تناسب بگڑا ہوا محسوس ہو رہاتھا۔ جس کے نتیجے میں کسی اسکول میں  ایک ہی مضمون  میں ایک سے زائد بلکہ ضرورت سے زائد اساتذہ نظر آتے تھے  جب کہ بہت سارے اسکول ایسے بھی  ہیں جن میں ایک موضوع کے لیے ایک بھی ٹیچر نہیں ہے۔ اس پیچیدہ اور غیر متوازن  صورت حال کو متوازن بنانے کے لیے اساتذہ کی پوسٹ کی توضیع  اور تقرری سے متعلق اپنے پرانے اصولی پیمانے میں سرکار نے  ترمیم کر دی۔مذکورہ حکم نامے کے ضابطہ نمبر 7 کی شق (1) کے مطابق اب ہائی اسکول میں اساتذہ کی تقرری کے لیے ان کی تعداد کا  اصولی پیمانہ 6+1 ہوگا۔(یعنی ایک صدر مدرس اور 6 معاون ٹیچر)۔لہذا جن اسکولوں میں اس پیمانے سے زائد ٹیچر ہوں گے ان کو دوسرے اسکول میں منتقل کیا جائے گا جہاں ٹیچر کی کمی ہے۔

اب ذرا اس پہلو پر توجہ دی جائے کہ آخر ہائی اسکولوں میں اساتذہ کی اسامیوں سے متعلق پرانے فارمولے  8+1کو بدل کر 6+1۔کردینے سے اردو کا نقصان کیسے ہوگا کیا؟۔

نئے فارمولے میں شامل 6 مضامین یہ ہیں  (1)ہندی  (2)انگریزی    (3)حساب   (4)سائنس (5)سوشل سائنس (6) دوسری بھاشا۔نمبر 6پر موجود دوسری بھاشا سے  اردو طبقے میں بے چینی ہے۔اس ترمیم شدہ ضابطے کے مطابق ایک اسکول میں ہندی اورانگریزی کے علاوہ تمام زبانوں میں سے کسی ایک زبان کے ٹیچر کی ہی پوسٹ کا جواز نکلتا ہے۔

اس ضابطے کے مطابق دوسری زبان کے زمرے میں آنی والی تمام زبانوں میں سے کسی ایک زبان کے ٹیچر کی ہی تقرری ممکن ہے اسی طرح سائنس میں طبعیات،علم کیمیا،علم حیاتیات کے لیے صرف ایک ٹیچر  ہوگا۔ایسے ہی تاریخ،جغرافیہ،سیاسیات،وغیرہ کے لیے بھی محض ایک ٹیچر پر قناعت کرنی ہوگی۔جب کہ پرانے ضابطے کے مطابق سائنس میں دو ٹیچر ہوا کرتے تھے۔اور سوشل سائنس میں بھی دو۔ تو ہونا تو یہ چاہیے کہ اس حکم نامے کی مخالفت میں بہار سیکنڈری ٹیچرس اسوسی ایشن کو صدائے احتجاج بلند کرنا چاہیے۔لیکن ٹیچرس اسو سی ایشن کی سرد مہری کے باعث اردو والے اپنے حق کے لیے آمادہ احتجاج ہیں۔کیوں کہ ملکی اور صوبائی پیمانے پر اکثر اردو کوہی سوتیلے سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔غور کیا جائے تو نہ صرف اردو بلکہ دوسری زبان کے زمرے میں آنے والی تمام  زبانوں کے لیے مسئلہ ہوگا۔ کیوں کہ اس ترمیم شدہ ضابطے کے مطابق  جس اسکول میں اردو کے طلبہ /طالبات ہوں گے وہاں سنسکرت،بنگلہ،میتھلی وغیرہ کے اساتذہ کی تقرری ممکن  نہیں ہوگی ایسے ہی جہاں میتھلی پڑھنے والے بچے ہوں گے اس اسکول میں اردو کے بشمول سنسکرت کے اساتذہ کی بھی گنجائش نہیں ہو گی۔

اس ترمیم شدہ ضابطے کے اصول نمبر 7 کی شق (ii)  میں مذکور ہے کہ ایک کلاس میں اگر60سے زیادہ طلبہ/  طالبات ہوں تو اضافی سیکشن تشکیل دے کر ٹیچر کے لیے پوسٹ وضع کی جاسکتی ہے۔اور اگر کسی موضوع میں 3ٹیچر کی ضرورت ہو تو  نیوجن اکائی،ضلع ایجوکیشن آفیسر نیز محکمہ سکینڈری ایجوکیشن کے ڈائریکٹر سے منظوری حاصل کر کے مزید استاد کے لیے پوسٹ وضع کی جاسکتی ہے۔لیکن  اس شق سے بھی دوسری بھاشا کے زمرے میں آنے والی تمام زبانوں کے ٹیچر کی پریشانی کے ازالے کا امکان  نظرنہیں آتا۔ کیوں کہ 6+1 کے فارمولے کو اپناتے ہوئے  دوسری بھاشا کے زمرے میں سے کسی ایک ہی زبان کے ٹیچر کی اسامی پر تقرری ممکن ہو گی۔

محبان اردو اور چند دیگر سرکردہ افرادکے حرکت میں آنے سے محکمہ تعلیم نے اس حکم نامے پر غور کرتے ہوئے 28/ اگست2020ء کو ایک اور حکم نامہ جاری کیا جو مذکورہ حکم نامہ سے ہی منسلک ہے۔28/ اگست کو جار ی ہونے والے حکم نامے کے پیر اگراف نمبر 3 میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ،میتھلی،مگہی،عربی،فارسی،بھوجپوری،پالی،پراکرت،موسیقی،اردو اور سنسکرت میں ٹیچر یونٹ کی تقسیم کے لیے یہ ملحوظ رکھنا لازم ہے کہ نشان زد اسکولوں میں متعلقہ سبجیکٹ میں کم از کم 40/ طلبا دستیاب ہوں۔ساتھ ہی میتھیلی،اردو اوربنگلہ سبجیکٹ کے لیے متعلقہ کمیونٹی کی کثیر آبادی والے حلقے میں واقع اسکولوں کو نشان زد کیا جائے گا۔ پیراگراف نمبر  4 میں پچھلے حکم نامے کی شق 7 (i)کے سلسلے میں وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اردو، ریاستِ بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے۔اس لیے جن اسکولوں میں اردو پڑھنے والے طلبہ و طالبات  کی تعداد ہو ان میں اردو ٹیچرکی ماموری /بحالی کر کے اردو کی پڑھائی کا نظم کیا جائے۔میر اماننا ہے کہ حالیہ حکم نامہ بھی گمراہ کن ہے۔ایک پیراگراف میں واضح طور پر لکھا ہے کہ اردو کے چالیس طلبا و طالبات ہوں تبھی اردوکے ٹیچر مقرر کیے جائیں گے۔ یہ  تو  پہلے مرغی یا پہلے انڈا والی بات ہو گئی۔کیوں کہ حکم نامہ کہتا ہے کہ پہلے طلبہ ہوں توہی اردو کا استاد مقرر کیا جائے  اور جب بچے اسکول میں داخلہ لینے جائیں  گے تو اسکول والے اردو مضمون اختیار کرنے سے منع کریں گے کیوں کہ وہاں اردو ٹیچر ہی نہیں ہوگا۔مزید یہ کہ کسی اسکول کو نشان زد کر کے اس میں اردو کا ٹیچر مقرر کیا جانا بھی پریشان کن مسئلہ ہیں کیوں کہ اس میں بھی افسران کا تعصب سر چڑھ کر بولے گا۔جب کہ ریاست بہار کی دوسری سرکاری زبان ہونے کی حیثیت سے ہر اسکول میں لازمی طور پر اردو کے استاد کی بحالی کی جانی چاہیے جیسے ہندی سرکاری زبان ہے اسی طرح۔ چالیس طلبا کی دستیابی اور نشان زد اسکول میں متعلقہ مضمون کے استاد کی تقرری کے ضابطے کا اطلاق علاقائی زبانوں پر کیا جانا چاہیے نہ کہ دوسری سرکاری زبان اردو پر۔

اردو والوں کی تشویش اور مخالفت بہر حال جائز ہے کیوں کہ دوسری سرکاری زبان کے ساتھ علاقائی زبان جیسا سلوک کرکے اسے حاشیہ پر دھکیلنے کی یہ شعوری سرکاری کوشش ہے جس کی مخالفت زور وشور سے کی جانی چاہیے۔ دوسری سرکاری زبان کے اساتذہ کی تعداد کو محدودبلکہ ختم کرنا کہیں سے بھی درست نہیں ہے۔اس میں اردو کی پوسٹ ختم ہونے کے قوی امکانات ہیں۔حالاں کہ جب سے نتیش حکومت ہے تب سے پرائمری سے لے کر پلس ٹو تک میں اردو کے اساتذہ کی خاصی بحالی ہوئی ہے۔لیکن آئندہ کی بحالی کے لیے قانونی طور پر راہیں مسدود اور دھندلی نظر آرہی ہیں۔اس لیے وزیر تعلیم پر اردو داں حلقے کی جانب سے دباؤ بنایا جانا چاہیے کہ وہ اس قانون میں ترمیم کریں اور اردو کی پوسٹ کو بھی یقینی بنائیں۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے 2009ء میں  ہر اسکول میں اردو کے اساتذہ کی تقرری کے عزم کا اظہارکیاتھا۔اس لیے وزیر تعلیم،وزیر اعلیٰ کے اس عزم کو یقینی بنائے رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔

 


 

 

 

 

 

 

 





 

بدھ، 26 اگست، 2020

مشرق وسطیٰ میں قیام امن کا مسئلہ

 



محمد حسین 

    حال ہی میں خلیجی ممالک میں سے ایک ابھرتی ہوئی معیشت متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ اپنے دیرینہ خفیہ تعلقات کو تقویت دیتے ہوئے’’امارات اسرائیل امن معاہدہ ‘‘ کا  اعلان کیا جس میں امریکہ نے  ثالث کا کردار ادا کیا ۔ اس امن معاہدے کو مغربی میڈیا میں جوش و خروش سے کوریج دی گئی اور اسے  ’’تاریخی امن معاہدہ ‘‘ کہا گیا ۔ متحدہ عرب امارات کے ساتھ اسرائیل نواز مغربی ممالک میں اس معاہدے کا جشن  منایا گیا ۔جب کہ فلسطین ،ایران اور ترکی نے متحدہ عرب امارات کے اس اقدام کی جم کر مذمت کی اور اسے غداری اور دھوکے بازی سے تعبیر کیا ۔ امارات نے اسرائیل سے اپنے تعلقات استوار کرنے سے پہلے فلسطین کواپنے عزائم سے باخبر کرنے کی بھی زحمت نہیں کی۔

اسرائیل اور یواے ای کے تعلقات کے تاریخی تسلسل پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاہدہ تو ابھی ظہور میں آیا ہے لیکن امارات اور اسرائیل کا یارانہ برسوں سے جاری ہے ۔سلامتی امور میں امارات پہلے سے ہی اسرائیل کے رابطے میں ہے۔اس امن معاہدہ کے ذریعے امارات نے اسرائیل کے موجودہ صدر نتین یاہو اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو انتخابی سیاست میں فائدہ پہنچانے کا کام کیا ہے ۔کیوں  کہ اسرائیل اور امریکہ میں سال کے اواخر میں انتخابات ہونے ہیں اور دونوں لیڈران کی مقبولیت میں کمی آئی ہے ۔ایک طرف نتین یاہو کرپشن کے الزامات جھیل رہے ہیں تو دوسری طرف کرونا وائرس کی مہاماری کے ایام میں بد نظمی  اور ناکامی کا داغ  امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر بھی ہے ۔تو ممکن ہے یہ ’’تاریخی امن معاہدہ‘‘ان دونوں لیڈران کے کام آئے ۔

امارات نے  اسرائیل سے دوستی کرکے جہاں فلسطینی عوام کو دھوکہ دیا ہے وہیں عرب اسرائیل معاہدہ کی بھی خلاف ورزی کی ہے ۔کیوں کہ اس معاہدے کی رو سے اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے تعلقات تبھی استوار ہوسکتے ہیں  جب  اسرائیل ، فلسطین اور عرب سرزمین کے مقبوضات سے پیچھے ہٹے۔اس لیے جب تک فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ نہ ہو تب تک اسرائیل کے ساتھ کوئی عرب ملک تعلقات استوار نہیں کر سکتا۔ فلسطین میں آج جو کچھ ہو رہاہے اس کا نقطہ آغاز بالفور منشور ہے ۔2 نومبر1917ء کو برطانوی وزیر خارجہ آرتھر جیمس بالفور نے یہ اعلان کیا کہ ’’برطانیہ فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کے حق میں ہے ‘‘اس منشور کو عالمی پیمانے پر تسلیم کرانے کے لیے صیہونی قوت نے سارازور صرف کر دیا۔دسمبر 1933میں تیس ہزار یہودیوں کو فلسطین لاکر بسایاگیا۔1934میں بیالیس ہزار 1935میں 61 ہزار اور 1936میں 75ہزار یہودیوں کو فلسطین لا کر بسایا گیا ۔فلسطین میں یہودیوں کوبسانے کے بعد 14مئی 1984کو برطانیہ نے تقسیم فلسطین کا خاکہ پیش کیا۔عرب ممالک نے اس تقسیم کی پرزور مخالفت کی مگر ان کی ایک نہ چلی ۔ادھر یہود ،برطانیہ سے پرزور مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں فلسطین میں علاحدہ یہودی ریاست قائم کرنے کی منظوری دی جائے دوسری جنگ عظیم میں یہودیوں نے برطانیہ کا ساتھ اسی شرط پر دیا تھا کہ وہ ’’یہودی ریاست ‘‘ کو ہری جھنڈی دے دے ۔لیکن ہوا یوں کہ 1948ء میں جب دوسری جنگ عظیم اختتام کے قریب تھی یہودیوں نے از خود ریاست ’’اسرائیل ‘‘کا اعلان کر دیا حالاں کہ قانونی طور پر ریاست اسرائیل کا اعلان نہ تو برطانیہ نے کیااور نہ ہی اقوام متحد ہ نے ۔اگر چہ ان دونوں نے اس کی پشت پناہی  کی تھی۔اس طرح نصف صدی پیش تر فلسطینیوں سے فلسطینیوں کی زمین چھینی گئی اور ان کے گھر میں گھس کر انہیں ہی بے دخل کرنے کی کوشش جاری ہے ۔فلسطینی نصف صدی سے اپنی سرزمین، اپنے وطن  کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔بے یار  ومددگار ان کے نہتھے اور معصوم بچے ،معذوراور نحیف وناتواں عورتیں اور بوڑھے بھی  اسرائیلی توپ وتفنگ کا مقابلہ کررہے  ہیں۔لیکن اسرائیل کی جارحیت میں دن بہ دن اضافہ ہی  ہو تا  رہا۔ ایسے میں عرب ممالک کو اس مسئلے کے حل کے لیے سینہ سپر ہونا چاہیے لیکن متحدہ عرب  امارات نے فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم سے آنکھیں موند کر اور عرب لیگ کے معاہدہ کو بھی نظر انداز کر تے ہوئے دیدہ ٔدلیری سے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کر لیا ۔

اسرائیل کے ساتھ امن معاہدےکے جواز میں اماراتی حکام چند دلیلیں پیش کرتے ہیں۔ اس معاہدے کے دفاع میں پہلی   دلیل پیش کرتے ہوئے امارات کہتا ہے کہ یہ معاہدہ اس شرط سے مشروط ہے کہ اسرائیل ،عرب سرزمین بالخصوص غرب ارد ن کی زمینوں پر قبضہ کرکے وہاں یہودی بستیاں تعمیر کرنے کے منصوبے کو موقوف کرے گا ۔یہ دلیل بالکل بے وزن ہے کیوں کہ اس معاہدے کے بعد بھی غرب اردن پر قبضہ کرنے کی پالیسی کو اسرائیل نے ترک کرنے کا وعدہ نہیں کیا ہے بلکہ مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ ماہرین یہ بتاتے ہیں کہ مقبوضہ غرب اردن کی ایک تہائی پر اسرائیل نے غیر قانونی توسیع کاری کا کام امارات کے اس معاہدے سے پہلے ہی کر لیا ہے ۔اطلاعات یہ ہیں کہ فلسطین کے مغربی کنارہ کے 30 فیصد رقبے پر 6 لاکھ یہودیوں کو اسرائیل نے بسانے کا کام کر لیا ہے ۔اب یہ آبادی چوں کہ فلسطینی آبادیوں کے درمیان ہے اس لیے اسرائیلی ،فلسطینیوں پربے دریغ حملہ کرتے ہیں ،ان  کی فصلیں برباد کرتے ہیں اور  ان کی معیشت کو تباہ کر تے ہیں ۔ساتھ میں انہیں ان کی فوج تحفظ فراہم کرتی ہے ۔جب کہ ان خطوں کو اوسلو معاہدے میں فلسطین کے لیے محفوظ قرار دیا گیا تھا ۔اس واقعے سے بھی سمجھ میں آتا ہے کہ اسرائیل امن معاہدے کا کتنا پاسدار ہے ۔

 اماراتی حکام کی دوسری دلیل یہ ہے کہ اسرائیل سے مصر اور اردن نے پہلے  ہی امن معاہ کر رکھا ہے تو امارات کیوں نہیں کر سکتا ؟یہ دلیل  بھی قابل قبول نہیں کیوں کہ مصر نے اسرائیل سے چار جنگیں لڑیں اس کے بعد اپنی شرط پر (کہ اسرائیل مصر کی سرزمینوں سے واپس جائے )معاہدۂ امن کیا۔اسی طرح اردن نے بھی اسرائیل سے 3 جنگیں لڑیں اس کے بعد ہی مخصوص شرائط کے ساتھ معاہدۂ امن ہوا ۔یہ  الگ بات ہے کہ اسرائیل امن معاہدے کی خلاف ورزیاں کر تا آیا ہے ۔لیکن امارات جس کی نہ تو سرحد اسرائیل سے متصل ہے اور نہ امارات کو کبھی  اسرائیل نے جنگ کی دھمکی دی ہے نہ کوئی جنگ ہوئی  ہےپھر اسرائیل سے  امارات کی دوستی اور اس کو قبول کرنے کا مطلب یہی ہے کہ امارات نے فلسطین  کےساتھ دغابازی  کی ہے  اور اپنے خفیہ مقاصد کی تکمیل کے لیے  راستہ ہموار کیا ہے ۔امارات ایک دلیل یہ بھی پیش کرتا ہے کہ خطۂ عرب  میں جنگ کی بجائے امن اور سفارت کاری کے ذریعے  ہی خوشحالی اور بہتری آئے گی ۔لیکن امارات کی یہ دلیل بھی بے جا ہے ۔یہ بات تو اپنی جگہ برحق ہے کہ امن کو جنگ پر ترجیح دی جائے لیکن ایسے  امن معاہدے کا کیا فائدہ  جس کادامن انسانی حقوق کی پامالی  اورعدل و انصاف کے خون  سے رنگا ہو۔تاریخ سے یہ بھی ثابت ہے کہ اسرائیل نے کوئی بات دباؤ میں ہی مانی ہے مفاہمتی قراداد پر دستخط کرنے کے باوجودعہد شکنی ہی اس کا وطیرہ رہاہے ۔

دوسری اہم بات یہ جنگ کی بجائے امن کی دہائی دیتے ہوئے اسرائیل سے معاہدہ ٔامن  کرنے والے امارات کی سیاسی بازی گری کا بغور جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ امارات پچھلے کچھ برسوں سے جنگ کا دلدادہ ہے ۔ مشرق وسطیٰ میں اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے نیز ابھرتی ہوئی مسلم طاقتوں کو زیر کرنے کے لیے اس نے بہت سے ہتھکنڈے اپنائے ہیں۔یمن میں سعودی کے ساتھ تباہ کن جنگ میں امارات بھی شامل ہے ۔لیبیا کی پراکسی جنگ(Proxy War) میں بھی امارات موجود ہے ۔ تیونس ،ترکی اور قطر کو غیر مستحکم کرنا امارات کی  ترجیحات میں شامل رہاہے ۔اسی طرح خطے کے مطلق العنان حکمرانوں کی حمایت میں بھی امارات پیش پیش رہا ہے ۔مثلاً شام میں بشار الاسد اور مصر میں عبدالفتح السیسی وغیرہ  کی حمایت ۔امارات کے ان کارناموں سے صاف ظاہر ہے کہ امارات امن کا دلدادہ نہیں ہے بلکہ جنگ اور جنگی حیلوں سے مشرق و سطیٰ میں اپنی بالادستی اور حریف ممالک کو زیر کرنا اس کا مقصد اصلی ہے اس کے لیے فلسطینی مظلوموں پر مزید ظلم  ہونے پر بھی وہ خاموش تماشائی ہی بنا رہے گا۔انقلابِ عرب (Arab Spring)،جمہوریت اور اسلامی تحریکات وغیرہ سے متحدہ عرب امارات کو خدا واسطے کا بیر ہے ۔

اسرائیل کے ساتھ دوستی کرکے متحدہ عرب امارات در اصل امریکہ سے بھی اپنے تعلقات مضبوط کرنا چاہتا ہے۔یہ اتحاد مستقبل میں ترکی کی بڑھتی ہوئی طاقت کو کمزور کرنے   اور ایران کو بھی زیر کرنے کے لیے متحرک ہو سکتا ہے۔دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ نہیں کیا ہے بلکہ جنگ کے اتحادی کی حیثیت سے تعلقات استوار کیا ہے ۔کیوں کہ پوری دنیا یہ جانتی ہے کہ اگر ڈونالڈ ٹرمپ دوبارہ امریکی صدر منتخب ہوتے ہیں تو خطے میں امن اور خوشحالی نہیں بلکہ مزید تباہی اور عدم استحکام کی صورت پیدا ہوگی ۔

جو لوگ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے حالیہ امن معاہدے کو تاریخی معاہدہ مان کر جشن منارہے ہیں انہیں مستقبل قریب میں احساس ہو جائے گا یہ کوئی امن معاہدہ نہیں ہے بلکہ خطے میں تصادم کے اضافے کا باعث ہوگا اور جنگ کی صورت حال پیدا کرے گا۔

مشرق وسطیٰ میں حقیقی امن اسی وقت بحال ہوگا جب فلسطین کو سنا جائے اسے قبول کیا جائے اس کی خود مختاری کو قبول کیاجائے اور فلسطین کے مقبوضہ خطوں سے یہودی بستیاں اور اسرائیلی افواج کا انخلا ہو جائے ۔تبھی ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوگا اور مشرق وسطیٰ سمیت تمام مسلم دنیا میں بھی امن بحال ہوگا ۔

 نوٹ : یہ مضمون روزنامہ پندارپٹنہ میں ۲۵ اگست ۲۰۲۰ کو اور روزنامہ ہندوستان ایکسپریس دہلی میں ۲۶ اگست کو شائع ہو چکاہے ۔


 

 


 

 

اتوار، 23 اگست، 2020

مغرب میں مولانا روم کی حیرت انگیز مقبولیت

 ۔

یورپ و امریکہ میں مولانا روم کی مثنوی ایک زمانے سے بے حد مقبول ہے ۔2007 میں عالمی ثقافتی ادارہ یونیسکو نے Year of Rumiمنانے کا اعلان کیا تھا ۔یونیسکو کی ایما پر مختلف ممالک میں مولانا رومی کی خدمات کے اعتراف میں متعدد پروگرام منعقد ہوئے ۔

مولانا روم جنہیں عرف عام میں رومی سے یا د کیا جاتا ہے ان کا اصلی نام محمد بن محمد جلال الدین ہے ۔آپ کی ولادت 6ربیع الاول 604ھ مطابق 1207ء میں بلخ میں ہوئی جو کہ فی الوقت تاجکستان میں واقع ہے ۔آپ کے والد شیخ بہاءالدین بھی ایک زبردست عالم دین تھے سلطان محمد خوارزم شاہ شیخ بہاءالدین کے حلقہ بگوشوں میں سے تھا۔آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے ہی حاصل کی ۔1231ء میں آپ کے والد کا انتقال ہوگیا۔اس کے بعد آپ نے شام اور دمشق میں تعلیم حاصل کی ۔اسی درمیان آپ کی ملاقات حضرت شمس تبریزی علیہ الرحمہ سے ہو ئی ۔حضرت شمس تبریزعارف کامل تھے ۔اس لیے مولانا جلال الدین نے ان کی شاگردی اختیار کی ۔تبریزی صحبت کا یہ اثر ہوا کہ مولانا روم عالم و واعظ ہونے کے ساتھ عارف و صوفی بھی ہو گئے ۔مولانا روم کو اپنے پیر و مرشد سے اس قدر قلبی ارادت تھی کہ ان کے وصال کے بعد ہمیشہ ان کی یاد میں وارفتہ رہے ۔

مولانا روم کا عظیم کارنامہ مثنوی کی صورت میں دنیا کے سامنے ہے ۔سات جلدوں پر مشتمل یہ مثنوی ایک شاہکار ہے ۔جو تقریباً 10سال میں مکمل ہو ئی مولانا روم نے اصلاً فارسی زبان میں لکھا تھا ۔ مولانا روم کی مثنوی کے بارے مولانا عبد الرحمان جامی نے کہاہے ۔مثنوی معنوی ہست قرآن در زبان پہلوی ۔

اب یہ مثنوی دنیا کی مختلف زبانون میں ترجمہ ہو کر کافی مقبول ہو چکی ہے ۔انگریزی میں نکلسن اور سر جیمز کا ترجمہ خاصا مشہور مانا جاتا ہے ۔مولانا روم نے مثنوی کے ذریعے دنیائے انسانیت کو پیغام امن و محبت پیش کیا ہے ۔انہوں نے اپنے اشعار کے ذریعے معرفت الٰہی ،اعلیٰ انسانی اقدار،بقائے باہم ،خیر سگالی اور انسان دوستی کا پیغام دیا ہے ۔یہ پیغام ایسا ہے کہ اس سے دنیا کا کوئی بھی خطہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا لیکن یورپ و امریکہ میں روحانیت کی متلاشی روحیں مولانا رومی کے وجد آفریں اشعار سے بے حد متاثرہیں۔یہی وجہ ہے کہ مولانا روم مغرب میں بے حد مقبول ہیں ۔مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ 2000ء سے 2010ء کےدورانیے میں مثنوی مولانا روم کی 5لاکھ سے زائد کاپیاں فروخت ہو ئیں۔ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی تاریخ میں ایک بدنام زمانہ صدر جارج ڈبلو بش ہواہے اس نے بھی مولانا روم کی شخصیت کا اعتراف کیا ۔اس نے اپنے ایک بیان میں مولانارو م کے اشعار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مولانا روم کا یہ نظریہ کہ ’’چراغ مختلف ہیں اور روشنی ایک‘‘در اصل محبت وانسانیت کو ایک وسیع افق عطا کر تا ہے ۔تھوڑی دیر کے لیے یہ باتیں عجیب بھی لگتی ہیں کہ امریکہ جیسے دین بیزار اور اسلام دشمن معاشرے میں ایک مسلمان شاعر اور اس کی مثنوی کوآخر اتنی اہمیت کیوں دی جارہی ہے ۔سابق امریکی صدر جارج ڈبلیوبش جس نے عراق اور افغانستان کو تہہ و بالا کر دریا بے دریغ مسلمانوں کا قتل عام کیا وہ آخر ایک مسلمان صوفی کے اشعارسے کیوں متاثر ہوا؟۔در اصل مولانا روم نے صوفیانہ افکار و خیالات کو اشعار میں پرو دیا جس میں انسان دوستی ،امن ،اخوت اور عالمی برادری کو چین وسکون سے رہنے کی تلقین نظر آتی ہے ۔یہی وہ پیغامات ہیں جن سے وہ متاثر ہوئے ہیں ۔دہشت گردی کی جو فضا قائم ہے اس میں اور جس طرح دہشت گردی کا تعلق مسلمانوں اور اسلام سے جوڑ دیا گیا ہو تو ظاہر ہے اسلام اور مسلمانوں کے اس طرز فکر کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جس میں علی الاعلان محبت ،انسانیت اور امن و بھارچارگی کی بات ہو ۔نہ کہ تشدد اور سخت گیری کی بات ہو ۔یہی وجہ ہے کہ امن وانسانیت کی بات کرنے والے تصوف کو امریکہ سمیت مغربی ممالک میں اہمیت دی جارہی ہے ۔امریکہ کی تصوف نوازی کی کڑی میں ہی رومی کی مقبولیت بڑھتی جارہی ہے ۔2003 ء میں امریکہ میں ایک کانفرنس ہوئی جس کا عنوان تھا ’’تصوف اور امریکی سیاست میں اس کے مثبت رول کا جائزہ ‘‘۔اس سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک کی پالیسی کا حصہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو صوفی اسلام کی طرف راغب کرے تا کہ سخت گیر عناصر کا خاتمہ ہو سکے ۔حالاں کہ یہ الگ بحث ہے کہ دہشت گردوں کو پیدا کرنے میں بھی در پردہ ان سپر پاور ممالک کا ہاتھ ہو ہے ۔مختلف رپورٹ سے ایسے انکشافات ہوتے رہے ہیں کہ دہشت گردوں کو مالی امدادا ور اسلحہ سپلائی کا کام یہ سپر پاور ممالک ہی کرتے ہیں اور اپنے سفارتی مقاصد کے حصول کے لیے سپر پاور ممالک ان دہشت گردوں کو استعمال کر تے ہیں اور بعد میں خود ان دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے عالمی مہم چلاتے ہیں جس کے نتیجے میں انسداد دہشت گردی کے لیے لائحہ عمل تیار کرایا جاتا ہے ۔بین الاقوامی سطح پر موجود تنظیموں کے بینر تلے کانفرنس ہوتی ہے اور پھر ترقی پذیریا دہشت گردوں سے پریشان ممالک کو اسلحہ بیچ کر سپرپاور ممالک پیسے کماتے ہیں ۔دہشت گردی ایک طرح سے اسلحہ کی تجارت کو فروغ دینے کے لیے آلہ کار کے طور پر استعمال ہوتی ہے ۔دہشت گردی کا ہوّا کھڑا کرنے کے بعد صوفی ازم اور تصوف کا در س دے کرمغربی ممالک خود کو مسلمانوں کا مسیحا اور ہمدرد بننے کی کوشش بھی کرتے ہیں ۔تا ہم حکمرانوں کی اس شاطرانہ چال کےکچھ مثبت اثرات بھی سامنے آئے جن کی انہیں توقع بھی نہیں رہی ہوگی ۔اس بہانے امریکی معاشرہ مثنوی اورتصوف کے راستے اسلام کو دریافت کرنے میں کامیاب ہو جارہے ہیں اور امریکہ میں اسلام کو مطعون کر نے کی بے انتہاکوششوں کے باوجود وہاں اسلام قبو ل کرنے والوں کی تعداد میں بھی حیرت انگیز اضافہ ہوتا جا رہاہے ۔


تذکرۂ حضرت رابعہ بصریہ پر تبصرہ

نام کتاب : تذکرۂ حضرت رابعہ بصریہ

مصنف: مولانا صابر رضا رہبر مصباحی

سن اشاعت: 2008

تعداد صفحات: 103

ناشر: تاج الشریعہ اکیڈمی،لدھیانہ پنجاب۔

ملنے کا پتہ: ماہ نور پبلی کیشنز مٹیامحل دہلی۔۶

 

صالحین امت اور بزرگان دین کی حیات کا ایک ایک لمحہ اللہ کی عبادت میں گزرتا ہے ۔عبادت کی بنا پر ہی وہ اللہ کے ایسے مقرب بندے بن جاتے ہیں کہ ان کی  ہر ادا عبادت مانی جاتی ہے ۔ہمہ دم یادِ باری میں مستغرق رہنا ان کا وظیفہ ٔحیات بن جاتاہے  ۔صالحین کے تذکرے پر مشتمل بہت سی کتابیں منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔البتہ صالحات کے تذکرے پر مشتمل بہت کم ہی کتابیں ملتی ہیں۔میرے  سینئردوست مولانا صابر رضا رہبر مصباحی نے اس طرف توجہ کی اور ایک عظیم عابدہ و زاہدہ حضرت رابعہ بصریہ علیہا الرحمہ کے گوشۂ حیات پر قلم اٹھایا ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مولانا نے عہد طالب علمی میں اس کام کو انجام دیا ۔ عہد طالب علمی  میں ہی ایک کتابچہ ’’اسلام اور مغربی تہذیب ‘‘ کے نام سے بھی منظر عام پر آچکاہے ۔صابر رضا اپنے قلمی نام رہبر مصباحی سے ان دنوں بے حد معروف ہیں اور روزنامہ انقلاب پٹنہ ایڈیشن کی ادارتی ٹیم میں ہیں ان کی درجن بھر  کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں ۔

حضرت رابعہ بصریہ کے احوال و آثار پر اردو میں مستقل سوانحی کتاب کم ہی نظر  آرہی تھی اس لیے رہبر مصباحی نے اس موضوع کو ہاتھ لگایا ۔یہ کتاب 103صفحات پر مشتمل ہے ۔بلا کسی تمہید و تقریظ کے یہ کتاب اول صفحہ سے  ہی مصنف کے خامہ ٔاثر سے شروع ہوتی ہے ۔’’ایک غلط فہمی کا ازالہ ‘‘ کے عنوان سے  5صفحات میں مصنف نے ایک تحقیقی گفتگو کی ہے ۔در اصل  حضرت رابعہ بصریہ اور حضرت خواجہ حسن بصری سے  ملاقات کا ذکر متعدد کتابوں میں ملتا ہے ۔لیکن  مصنف نے تحقیق سے یہ ثابت کیا ہے کہ ان کے درمیان ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ حضرت رابعہ بصریہ کے تذکرہ نگاروں نے بیان کیاہے کہ خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ اس وقت وعظ نہیں فرماتے جب تک حضرت رابعہ بصریہ مجلس وعظ میں تشریف نہ لاتیں۔لوگوں نے ان سے سوال کیا کہ آخر  یہ کیا معاملہ ہے ؟آپ ایک بوڑھی عورت کے لیے وعظ سے کیوں رکے رہتے ہیں۔تو آپ نے جواب دیا کہ ہاتھی کے برتن کا شربت چیونٹی کے برتن میں کیسے سما سکتا ہے ۔؟؟یہ واقعہ اکثر کتابوں میں ملتا ہے ۔اس واقعے کا ذکر  کرتے ہوئے رہبر مصباحی لکھتے ہیں ’’مذکورہ واقعہ میں بوڑھی عورت سے ظاہرہوتا  ہے کہ یہ واقعہ حضرت رابعہ بصریہ علیہا الرحمہ کے بڑھاپے کا ہوگا لیکن معاملہ یہ ہے  کہ حضرت رابعہ بصریہ کی ولادت حسب اختلاف روایات 95ھ 97ھ یا 99ھ میں ہے اور حضرت خواجہ حسن بصری کا سن وفات 110ھ ہے ۔اس طرح حضرت خواجہ حسن بصری کی وفات کے وقت حضرت رابعہ بصریہ 11,13,15برس کی ہو سکتی ہیں۔مصنف نے اس دلیل سے یہ ثابت کیا ہے کہ تذکرہ نگاروں سے اس موقع پر تسامح ہو گیا ہے ۔لیکن ایک سوال پھر بھی قائم ہوتا ہے کہ اس مشہور واقعے کا تعلق  اصلاًکس شخصیت سے ہے ۔ بہر کیف اس موضوع پر مزید تفصیل اور تحقیق ملاحظہ کرنے کے لیے آپ کو مصنف کی کتاب کا مطالعہ کر نا ہوگا ۔صفحہ 6سے ’’مقدمے ‘‘ کا آغاز ہوتا ہے جسے مصنف نے ہی لکھا ہے ۔مقدمے میں مصنف نے  نبی ،ولی ،معجز ہ اور کرامت و غیرہ پر علمی باتیں تحریر کی ہیں۔مقدمہ صفحہ 15پر ختم ہوتا ہے ۔اس کے بعد انہوں نے ’’اپنی باتیں ‘‘کے عنوان سے دوران تصنیف پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کیا ہے ۔

کتاب میں دلچسپ ،حیر ت انگیز اور سبق آموز کرامات و واقعات کا ذکر ملتا ہے ۔کتاب میں مصنف نے ابواب کے عنوان  بڑے پرکشش رکھے ہیں ۔ عنوان دیکھ کر قاری پورا باب پڑھے بغیر نہیں رہ سکتا ۔مثال کے طو رپر ملاحظہ کریں ۔’’اشکوں کا نالہ ‘‘ ۔ ’’ہوا کے دوش پر نماز کی ادائیگی‘‘۔ ’’اور اب ہاتھ ٹوٹ گیا‘‘۔’’سالن تیار ہو گیا‘‘۔ ’’شکایت کی پٹی‘‘۔’’ہائے غم نہ کہو‘‘۔پر کشش عنوانات کی یہ ایک جھلک ہے ۔کتاب میں مزید ایسے پر کشش عنوانات ملیں گے ۔رہبر مصباحی کا اسلوب نگارش بہت شگفتہ اور پر کشش ہوتا ہے ۔بلکہ میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا کہ رہبر مصباحی اسلوب کو پر کشش بنانے کے لیے بہترین تراکیب اور شیریں الفاظ کو تلاش کرکے اپنے جملوں میں استعمال کر نے پر بھرپو رمحنت کر تے ہیں۔رہبر مصباحی کے اسلوب نگارش کی ایک مثال ملاحظہ کریں ۔

        ’’اس قحط سالی نے نہ جانے کتنوں کو موت کا زہر پینے کو مجبو رکردیا تھا۔کتنی سہاگنوں کے ماتھے سے سیندور پو چھ کر ان کے دست نازنیں سے رنگ برنگی چوڑیوں کو توڑدیا تھا ،کتنے نونہالوں کو یتیمی کی رسی میں باندھ دیا تھا اور کتنی ماؤں کی لالہ زار آغوش شفقت کو ویران کر دیا تھا ۔نوبت یہ تھی کہ عشق و عاشقی جیسے مستحکم اور مضبوط رشتوں کے دھاگے جس کو بڑے بڑے مصائب و آلام کے طوفان بھی نہ توڑ سکے تھے ،آج وہ بھی تار عنکبوت نظر آرہے تھے ‘‘(ص30)

مصنف نے حوالوں اور مآخد کا بھی خوب التزام کیا ہے لیکن حوالوں کے التزام میں کچھ کچھ کمیاں بھی محسوس کی جارہی ہیں۔مصنف نے نام کتاب اور مصنف کے ذکر پر ہی اکتفا کیا ہے جب کہ مطبع و ناشر اور سن اشاعت بھی درج کرنا چاہیے تھا ۔یوں ہی احادیث کے حوالوں میں بھی رہبر مصباحی نے تن آسانی دکھائی ہے ۔صرف بخاری شریف کہہ کر گزر گئے ہیں جب کہ صفحہ ،باب،مطبع وغیر ہ بھی ذکر کرنا چاہیے تھا ۔

’’حضرت رابعہ بصریہ کی شاعری ‘‘ کے عنوان سے مصنف نے حضرت رابعہ بصریہ کے اشعار کا فقط ترجمہ تحریر کیا ہے ۔اصل اشعار کس زبان میں ہیں یہ قاری کیا جانے ۔اصل اشعار اگر عربی میں ہیں تو عربی متن بھی شامل کیا جانا چاہیے تھا اور اشعار کا ماخذ بھی پیش کیا جانا چاہیے ۔

کتاب میں کمپوزنگ کی خامیاں ر ہ جانا عام بات ہے ۔مجھے چند مقامات پر جو خامیا ں ملی وہ ذکر کر رہا ہوں تاکہ آئندہ ایڈیشن میں اصلاح ہوسکے ۔ص۲۷پر کاغذ کا ٹکڑہ،’’ٹکڑا‘‘ہونا چاہیے ۔ص ۶ پر صوفیاے عظام لکھا ہے ۔جبکہ’’ صوفیہ ٔعظام ‘‘ہونا چاہیے ۔کیوں کہ صوفی کی جمع صوفیہ ہے نہ کہ صوفیا ۔ص ۷۱ پر ’’اعجاز و شرف بھی صرف اور صرف عورت کو حاصل ہے ‘‘ اس میں’ اعزاز‘ ہونا چاہیے تھا ۔مصنف صاحب نے ’’حیرانگی ‘‘ کا لفظ بارہا استعمال کیا ہے ۔جب کہ قواعد اردو کی روسے حیرانگی درست نہیں ہے بلکہ حیرانی درست ہے ۔کیوں کہ قاعدہ یہ ہے کہ جس لفظ کے اخیر میں ہائے ہوز ہو تو اس میں گی بڑھا یا جا سکتاہے جیسے برجستہ سے برجستگی ۔لیکن حیران سے حیرانگی بنانا ایسے ہی ہے جیسے پریشا ن سے پریشانگی۔امید ہے کہ اگلے ایڈیشن میں کمپوزنگ اور املا کی غلطیوں پر بھی خاص توجہ دی جائے گی ۔سرورق پر سادگی کا حسن جلوہ فگن ہے ۔یہ کتاب تذکرہ نویسی کے میدان میں ایک اہم کتاب تسلیم کی جانی چاہیے ۔برگزیدہ شخصیات کے تذکروں کے مطالعے سے قاری کو گمرہی کی تاریک راہوں میں راہ ہدایت ملنے کی امید ہوا کرتی ہے اس لیے اس کتاب کا مطالعہ ان کے لیے راہ ہدایت ثابت ہوگا جو ہدایت کی تلا ش میں ہیں۔ 

Latest

ڈاکٹر شمشیر علی کے ساتھ جنک پور نیپال کی سیر

ڈاکٹر محمد حسین جے نگر مدھوبنی  12/02/2026  ہمارے ضلع مدھوبنی کے پرانے ساتھی ڈاکٹر شمشیر علی مصباحی پہلی بار ہمارے گھر بلکہ ہمارے شہر جے نگر...