جمعرات، 3 ستمبر، 2020

بہار کے ہائی اسکول سے اردو غائب کرنے کا ماسٹر پلان

بہار کے ہائی اسکول سے اردو کوغائب کرنے کا ماسٹر پلان

        محمد حسین

ریسرچ اسکالر،شعبہ اردو،دہلی یونی ورسٹی۔

ای میل: hussaindu21@gmail.com

بہار کے اردو حلقے میں محکمہ تعلیم کے  ایک حکم نامے کی وجہ سے بے چینی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ محکمہ تعلیم نے۔15،مارچ2020ء کو ایک حکم نامہ  جاری کیا ہے)فائل نمبر-11: -/799یہ حکم نامہ در اصل  ہائی اسکولوں میں اساتذہ کی تقرری اور نشستوں کی تعداد میں پہلے سے موجود ضوابط میں ترمیم سے متعلق   ہے۔

اس حکم نامے  میں مذکور ہے کہ پہلے بہار کے  ہائی اسکولوں میں کلاس ۶سے دسویں جماعت تک کی تعلیم  ہوتی تھی اسی طرح 8 ویں جماعت سے10 ویں جماعت تک کی تعلیم ہوا کرتی تھی ۔جس میں  کچھ عرصہ پہلے ہی تبدیلی آچکی ہے اب ہائی اسکول میں 9 ویں اور10 ویں جماعت کی ہی تعلیم کا نظم ہے۔ حکومت بہار نے اسی تبدیلی کو دلیل بنا کر اساتذہ کی اسامیوں اور تقرریوں کے سلسلے میں پہلے سے  موجوداصولی  پیمانے (مانک منڈل)میں بھی تبدیلی کر دی۔کیوں کہ پہلے ہائی اسکول میں 6 سے 10 تک کی تعلیم کا نظم تھا اس لیے اساتذہ کی پوسٹ بھی اسی اعتبارسے وضع کی گئی تھی۔ اس وقت اساتذہ کی تقرری کے لیے ایک مانک منڈل (اصولی پیمانہ) اختیارکیا گیا تھا جس کے مطابق ہائی اسکول میں 8+1(یعنی 8 معاون ٹیچر اور ایک صدر مدرس) یا پھر 9+1(یعنی 9 معاون ٹیچر اور ایک صدر مدرس) کا نظم تھا۔تقرری کا یہ اصولی پیمانہ اب تک قابل عمل تھا جب کہ ہائی اسکول میں اب 6 سے 10 ویں جماعت تک کی تعلیم کانظم بر قرار نہیں رہا۔اب ہائی اسکولوں میں  صرف 9 ویں اور10 ویں کی تعلیم ہوتی ہے۔ایسی صورت میں اساتذہ کی تعداد کا تناسب بگڑا ہوا محسوس ہو رہاتھا۔ جس کے نتیجے میں کسی اسکول میں  ایک ہی مضمون  میں ایک سے زائد بلکہ ضرورت سے زائد اساتذہ نظر آتے تھے  جب کہ بہت سارے اسکول ایسے بھی  ہیں جن میں ایک موضوع کے لیے ایک بھی ٹیچر نہیں ہے۔ اس پیچیدہ اور غیر متوازن  صورت حال کو متوازن بنانے کے لیے اساتذہ کی پوسٹ کی توضیع  اور تقرری سے متعلق اپنے پرانے اصولی پیمانے میں سرکار نے  ترمیم کر دی۔مذکورہ حکم نامے کے ضابطہ نمبر 7 کی شق (1) کے مطابق اب ہائی اسکول میں اساتذہ کی تقرری کے لیے ان کی تعداد کا  اصولی پیمانہ 6+1 ہوگا۔(یعنی ایک صدر مدرس اور 6 معاون ٹیچر)۔لہذا جن اسکولوں میں اس پیمانے سے زائد ٹیچر ہوں گے ان کو دوسرے اسکول میں منتقل کیا جائے گا جہاں ٹیچر کی کمی ہے۔

اب ذرا اس پہلو پر توجہ دی جائے کہ آخر ہائی اسکولوں میں اساتذہ کی اسامیوں سے متعلق پرانے فارمولے  8+1کو بدل کر 6+1۔کردینے سے اردو کا نقصان کیسے ہوگا کیا؟۔

نئے فارمولے میں شامل 6 مضامین یہ ہیں  (1)ہندی  (2)انگریزی    (3)حساب   (4)سائنس (5)سوشل سائنس (6) دوسری بھاشا۔نمبر 6پر موجود دوسری بھاشا سے  اردو طبقے میں بے چینی ہے۔اس ترمیم شدہ ضابطے کے مطابق ایک اسکول میں ہندی اورانگریزی کے علاوہ تمام زبانوں میں سے کسی ایک زبان کے ٹیچر کی ہی پوسٹ کا جواز نکلتا ہے۔

اس ضابطے کے مطابق دوسری زبان کے زمرے میں آنی والی تمام زبانوں میں سے کسی ایک زبان کے ٹیچر کی ہی تقرری ممکن ہے اسی طرح سائنس میں طبعیات،علم کیمیا،علم حیاتیات کے لیے صرف ایک ٹیچر  ہوگا۔ایسے ہی تاریخ،جغرافیہ،سیاسیات،وغیرہ کے لیے بھی محض ایک ٹیچر پر قناعت کرنی ہوگی۔جب کہ پرانے ضابطے کے مطابق سائنس میں دو ٹیچر ہوا کرتے تھے۔اور سوشل سائنس میں بھی دو۔ تو ہونا تو یہ چاہیے کہ اس حکم نامے کی مخالفت میں بہار سیکنڈری ٹیچرس اسوسی ایشن کو صدائے احتجاج بلند کرنا چاہیے۔لیکن ٹیچرس اسو سی ایشن کی سرد مہری کے باعث اردو والے اپنے حق کے لیے آمادہ احتجاج ہیں۔کیوں کہ ملکی اور صوبائی پیمانے پر اکثر اردو کوہی سوتیلے سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔غور کیا جائے تو نہ صرف اردو بلکہ دوسری زبان کے زمرے میں آنے والی تمام  زبانوں کے لیے مسئلہ ہوگا۔ کیوں کہ اس ترمیم شدہ ضابطے کے مطابق  جس اسکول میں اردو کے طلبہ /طالبات ہوں گے وہاں سنسکرت،بنگلہ،میتھلی وغیرہ کے اساتذہ کی تقرری ممکن  نہیں ہوگی ایسے ہی جہاں میتھلی پڑھنے والے بچے ہوں گے اس اسکول میں اردو کے بشمول سنسکرت کے اساتذہ کی بھی گنجائش نہیں ہو گی۔

اس ترمیم شدہ ضابطے کے اصول نمبر 7 کی شق (ii)  میں مذکور ہے کہ ایک کلاس میں اگر60سے زیادہ طلبہ/  طالبات ہوں تو اضافی سیکشن تشکیل دے کر ٹیچر کے لیے پوسٹ وضع کی جاسکتی ہے۔اور اگر کسی موضوع میں 3ٹیچر کی ضرورت ہو تو  نیوجن اکائی،ضلع ایجوکیشن آفیسر نیز محکمہ سکینڈری ایجوکیشن کے ڈائریکٹر سے منظوری حاصل کر کے مزید استاد کے لیے پوسٹ وضع کی جاسکتی ہے۔لیکن  اس شق سے بھی دوسری بھاشا کے زمرے میں آنے والی تمام زبانوں کے ٹیچر کی پریشانی کے ازالے کا امکان  نظرنہیں آتا۔ کیوں کہ 6+1 کے فارمولے کو اپناتے ہوئے  دوسری بھاشا کے زمرے میں سے کسی ایک ہی زبان کے ٹیچر کی اسامی پر تقرری ممکن ہو گی۔

محبان اردو اور چند دیگر سرکردہ افرادکے حرکت میں آنے سے محکمہ تعلیم نے اس حکم نامے پر غور کرتے ہوئے 28/ اگست2020ء کو ایک اور حکم نامہ جاری کیا جو مذکورہ حکم نامہ سے ہی منسلک ہے۔28/ اگست کو جار ی ہونے والے حکم نامے کے پیر اگراف نمبر 3 میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ،میتھلی،مگہی،عربی،فارسی،بھوجپوری،پالی،پراکرت،موسیقی،اردو اور سنسکرت میں ٹیچر یونٹ کی تقسیم کے لیے یہ ملحوظ رکھنا لازم ہے کہ نشان زد اسکولوں میں متعلقہ سبجیکٹ میں کم از کم 40/ طلبا دستیاب ہوں۔ساتھ ہی میتھیلی،اردو اوربنگلہ سبجیکٹ کے لیے متعلقہ کمیونٹی کی کثیر آبادی والے حلقے میں واقع اسکولوں کو نشان زد کیا جائے گا۔ پیراگراف نمبر  4 میں پچھلے حکم نامے کی شق 7 (i)کے سلسلے میں وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اردو، ریاستِ بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے۔اس لیے جن اسکولوں میں اردو پڑھنے والے طلبہ و طالبات  کی تعداد ہو ان میں اردو ٹیچرکی ماموری /بحالی کر کے اردو کی پڑھائی کا نظم کیا جائے۔میر اماننا ہے کہ حالیہ حکم نامہ بھی گمراہ کن ہے۔ایک پیراگراف میں واضح طور پر لکھا ہے کہ اردو کے چالیس طلبا و طالبات ہوں تبھی اردوکے ٹیچر مقرر کیے جائیں گے۔ یہ  تو  پہلے مرغی یا پہلے انڈا والی بات ہو گئی۔کیوں کہ حکم نامہ کہتا ہے کہ پہلے طلبہ ہوں توہی اردو کا استاد مقرر کیا جائے  اور جب بچے اسکول میں داخلہ لینے جائیں  گے تو اسکول والے اردو مضمون اختیار کرنے سے منع کریں گے کیوں کہ وہاں اردو ٹیچر ہی نہیں ہوگا۔مزید یہ کہ کسی اسکول کو نشان زد کر کے اس میں اردو کا ٹیچر مقرر کیا جانا بھی پریشان کن مسئلہ ہیں کیوں کہ اس میں بھی افسران کا تعصب سر چڑھ کر بولے گا۔جب کہ ریاست بہار کی دوسری سرکاری زبان ہونے کی حیثیت سے ہر اسکول میں لازمی طور پر اردو کے استاد کی بحالی کی جانی چاہیے جیسے ہندی سرکاری زبان ہے اسی طرح۔ چالیس طلبا کی دستیابی اور نشان زد اسکول میں متعلقہ مضمون کے استاد کی تقرری کے ضابطے کا اطلاق علاقائی زبانوں پر کیا جانا چاہیے نہ کہ دوسری سرکاری زبان اردو پر۔

اردو والوں کی تشویش اور مخالفت بہر حال جائز ہے کیوں کہ دوسری سرکاری زبان کے ساتھ علاقائی زبان جیسا سلوک کرکے اسے حاشیہ پر دھکیلنے کی یہ شعوری سرکاری کوشش ہے جس کی مخالفت زور وشور سے کی جانی چاہیے۔ دوسری سرکاری زبان کے اساتذہ کی تعداد کو محدودبلکہ ختم کرنا کہیں سے بھی درست نہیں ہے۔اس میں اردو کی پوسٹ ختم ہونے کے قوی امکانات ہیں۔حالاں کہ جب سے نتیش حکومت ہے تب سے پرائمری سے لے کر پلس ٹو تک میں اردو کے اساتذہ کی خاصی بحالی ہوئی ہے۔لیکن آئندہ کی بحالی کے لیے قانونی طور پر راہیں مسدود اور دھندلی نظر آرہی ہیں۔اس لیے وزیر تعلیم پر اردو داں حلقے کی جانب سے دباؤ بنایا جانا چاہیے کہ وہ اس قانون میں ترمیم کریں اور اردو کی پوسٹ کو بھی یقینی بنائیں۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے 2009ء میں  ہر اسکول میں اردو کے اساتذہ کی تقرری کے عزم کا اظہارکیاتھا۔اس لیے وزیر تعلیم،وزیر اعلیٰ کے اس عزم کو یقینی بنائے رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔

 


 

 

 

 

 

 

 





 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Latest

ڈاکٹر شمشیر علی کے ساتھ جنک پور نیپال کی سیر

ڈاکٹر محمد حسین جے نگر مدھوبنی  12/02/2026  ہمارے ضلع مدھوبنی کے پرانے ساتھی ڈاکٹر شمشیر علی مصباحی پہلی بار ہمارے گھر بلکہ ہمارے شہر جے نگر...