رسالہ آج کل سائز میں مختصر ضرور ہوا ہے لیکن اس کے معیاری مشمولات میں تخفیف نہیں ہوئی ہے. اکتوبر، نومبر 2025 کا شمارہ مجھے ایک ساتھ دستیاب ہوا ہے. اس لیے دسمبر کے ماہ میں اکتوبر کے شمارہ سے آغاز کر رہا ہوں. اس شمارہ میں اکثر قلم کاروں کے نام میرے لیے اجنبی نہیں ہیں، ڈاکٹر ہمایوں اشرف، ڈاکٹر قسیم اختر، حامد رضا صدیقی، عبدالرزاق زیادی، خورشید اکرم، صدر عالم گوہر وغیرہ وہ نام ہیں جن کی تحریروں کے علاوہ ان سے ذاتی طور پر بھی ملاقات بات بھی رہی ہے. سب جانے پہچانے ہیں. اس شمارہ میں اداریہ کے بعد پہلا مضمون ڈاکٹر محمد منہاج الدین کا ہے. مضمون کا عنوان "شاد عظیم آبادی کا نظریہ آغاز زبان اردو" ہے. مضمون کے عنوان نے مجھے اس مضمون کو بغور پڑھنے پر آمادہ کر لیا. مضون کے اولین دو صفحات پڑھتے ہوئے میرا تجسس بڑھتا گیا کیوں کہ دو صفحات تک شاد کے نظریہ کی تلاش جاری تھی.. اولین دو صفحات میں ڈاکٹر منہاج الدین نے پاننی کے اشٹادھیائے سے لے کر، میر امن کے باغ و بہار، سرسید کے آثار الصنادید، سراج الدین علی خان آرزو کے "مُثمِر"، رائل ایشاٹک سوسائٹی کے سالانہ جلسہ میں دیے گئے سر ولیم جونز کے خطبہ، امام بخش صہبائی کے "قواعد صرف و نحو اردو" سے لے کر محمد حسین آزاد کی آب حیات اور سخندان فارس تک کی ورق گردانی کر کے زبان اور آغاز زبان کے نظریات کا سرسری جائزہ پیش کیا ہے. یعنی سنسکرت کے ماہرین علم لسان سے لے کر یورپی زبانوں کے ماہرین علم لسان اور اردو کے ماہرین علم لسان تک کے نظریات کو کھنگال ڈالا.
ادھر میرا تجسس بڑھتا جا رہا تھا تبھی دو صحفہ کی تکمیل سے پہلے ہی ڈاکٹر منہاج نے Curtain Raiser کے بطور شاد صاحب کی تصنیفات "نوائے وطن" اور "فکر بلیغ" سے پردہ اٹھایا. جو بالترتیب 1884 اور 1929 میں شائع ہوئے. پھر ان دونوں کتابوں کے حوالے سے ہی شاد عظیم آبادی کے نظریہ آغاز زبان اردو پر بھرپور بحث کی ہے. اس مضمون کو پڑھنے کے بعد اس کا ما حصل کچھ یوں ہے.
مضمون کا ماحصل
# اردو کا نقطہ آغاز شاد عظیم آبادی نے گیارہویں صدی کو مانا ہے جس صدی میں بودھ دھرم کا شیرازہ منتشر ہو رہا تھا. محمود غزنوی کے متواتر حملے ہو رہے تھے، شہاب الدین غوری ہندوستان پر لشکر کشی کر رہا تھا.
# اردو کی جائے پیدائش بہار ہے.
# پالی پراکت (جسے ماگدھی بھی کہتے ہیں) کے ساتھ مل کر اردو کا ہیولی' تیار ہوا.
#اردو کا ہیولی' ماگدھی، پراکرت سے ہوتے ہوئے مسلمانوں کی آمد کے بعد (پٹنہ) بہار میں تیار پوا.
# اردو زبان کی اصلیت اور ڈھانچ کے اندر زبان فارسی وغیرہ نہیں ہے. یہ زبان ہندوستانی ہے اور ہندوستانی ہی اس کے مالک ہیں.
#یہ گمراہ کن نظریہ ہے کہ "مسلمانوں کی فاتح فوج کے بازار میں یہ زبان پیدا ہوئی اس لیے اس کا نام زبان اردو ہوا"
#اردو کی تعمیر و تشکیل میں فارسی کے ساتھ عربی، ترکی یا سنسکرت کا عمل دخل نہیں ہے.
البتہ
#اردو کا نو رتن فارسی، عربی، بھاشا، سنسکرت، پنجابی، ترکی، پشتو کے جواہرات سے مرصع ہے.
#شاد نے بہار کے مختلف علاقوں میں بولی جانے والی اردو کو غیر فصیح اور خاص عظیم آباد کے امرا و شرفا کی اردو زبان کو فصیح زبان قرار دیا ہے.
----------------------------------------------------------
میرا خیال ہے کہ اردو زبان کی ابتدا سے متعلق شاد عظیم آبادی کے نظریات کا محاسبہ ہونا چاہیے. ان کے خیالات پر بحث کی بھر پور گنجائش ہے. ان کے نظریے سے اختلاف یا اتفاق دونوں صورتوں میں آغاز زبان سے متعلق کچھ نئے مباحث کے دروازے ضرور کھلیں گے. پالی زبان کے تعلق سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے. شاد عظیم آبادی نے پالی زبان کے جانکار کے معدوم ہونے کی بات لکھی ہے. جو درست بھی ہے. لیکن دوسری حیران کن بات یہ ہے کہ بہار کے اسکولی نصاب میں بطور اختیاری زبان پالی بھی ہے. بہار میں اسکول اساتذہ اور یونیورسٹی لیکچرار کی تقرری میں کچھ پالی کے اساتذہ کی بھی تقرری ہوئی ہے.مجھے نہیں معلوم کی یہ زبان اسی شکل میں موجود ہے جو گیارہویں صدی تک رہی ہوگی. البتہ ہم میں سے کوئی یہ زبان سیکھے تو شاید پالی اور اردو زبان کے رشتے پر با ضابطہ تحقیق کا دروازہ کھلے.
مضمون پڑھتے ہوئے بعض اوقات کچھ غیر ضروری پیراگراف سے موضوع کے تسلسل میں خلل محسوس ہوا. 'نوائے وطن' کے حوالے سے راسخ اور میر کی ملاقات کا قصہ اس موضوع سے کچھ خاص میل نہیں کھاتا. اور یہ بھی کہ پورے صفحے کے ایک کالم کا اقتباس پڑھنے کے بعد بھی ہمیں سمجھ نہیں آیا کہ میر صاحب کی ملاقات کس سے ہو رہی ہے. اخیر کی سطر میں "راسخ مرحوم کو گلے لگایا" سے وضاحت ہوئی. پھر بھی مجھے نہیں لگتا کہ شاد کے نظریہ آغاز زبان میں اس اقتباس کی چنداں ضرورت ہے.
زبان کی فصاحت و بلاغت پر شاد کے نظریات پر اچھی گفتگو ہوئی ہے. میرا خیال ہے کہ اس بحث سے پہلے "زبان کی فصاحت و بلاغت سے متعلق شاد کا نظریہ" جیسا کوئی ایک سرنامہ /ذیلی عنوان قائم کرلیتے تو زیادہ بہتر ہوتا. 'زبان کی اصلیت اور تشکیل سے متعلق بحث' سے پہلے بھی ذیلی عنوان کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے.
کمپوزنگ اور پروف ریڈنگ کی کمی نے بھی ذرا طبیعت مکدر کی.'آج کل' جیسے معیاری رسالے میں اس طرح پروف ریڈنگ کی کمی رہ جانا افسوسناک ہے. باقی محنت اور تحقیق سے لکھا گیا مضمون ہے اس کی ستائش تو ہونی چاہیے. ڈاکٹر منہاج صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں. لکھنے کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے.
(کانپور اور علی گڑھ کے درمیان دہلی کے سفر میں)
21-12-2025

