کتاب "تاج الفقہا: احوال و آثار" پر تبصرہ

 


نام کتاب : تاج الفقہا : احوال و آثار

مولف : محمد آفتاب مصباحی

ناشر : خواجہ بک ڈپو مٹیا محل دہلی. 

سن اشاعت: 2026

صفحات : 176

قینت : 180 روپے



سوشل میڈیا کے توسط سے  کتاب "تاج الفقہا : احوال و آثار" کا سرورق نظر سے گزرا۔ میں نے سرورق دیکھا جس پر کتاب کے مؤلف کا نام ہمارے سینئر ساتھی محمد آفتاب مصباحی لکھا تھا. میں اس لقب "تاج الفقہا" سے نابلد تھا۔ اس لیے مجھے تجسس ہوا کہ یہ کون ہیں؟  میرے تجسس کو ختم کرنے کے لیے بنا میرے کہے آفتاب مصباحی صاحب نے بذریعہ ڈاک یہ کتاب بھیج دی. 

 پھر کیا تھا وقت نکال کر اس کتاب کو پڑھنے لگا ۔ ایک نشست میں کتاب کا ایک چوتھائی حصہ پڑھ گیا پھر اگلی نشستوں میں باقی حصہ بھی پڑھ گیا. 


 تاج الفقہا - دراصل بہار کے سیتا مڑھی  ضلع سے تعلق رکھنے والے با صلاحیت عالم دین حضرت مولانا و مفتی محمد ایوب رضوی صاحب کا لقب ہے ۔ جن کا انتقال 20 جون 2026 کو ہو گیا ۔ ان کے چہلم کے موقع پر ان کے  مخلص شاگرد مولانا محمد آفتاب مصباحی نے  ہدیہ خلوص کے طور پر انتھک محنت و جانفشانی سے یہ کتاب ترتیب دی اور اپنی محنت کی کمائی  سے خود اس کتاب کی اشاعت کا خرچہ اٹھایا بلکہ علماء اور احباب کو خود کے صرفے سے بذریعہ ڈاک یہ کتاب بھیج بھی رہے ہیں۔


مولانا محمد آفتاب مصباحی خود با صلاحیت عالم ہیں ۔ اور بہترین نثرنگارہیں. ایک عرصے تک دہلی میں انہوں نے اپنے صحافیانہ جوہر دکھائے ہیں ۔ ملک کی مایہ ناز یونیورسٹی جواہر لال نہرو یونی ورسٹی کے پروردہ ہیں ۔ فی الوقت جھارکھنڈ میں اعلی ثانوی سطح کے تعلیمی ادارے میں تدریس کے  فرائض انجام دے رہے ہیں۔


کتاب " تاج الفقها، احوال و آثار"  174 صفحات پر مشتمل ایک سوانحی کتاب ہے ۔ جس میں 30 سے زائد صفحات پر مشتمل مؤلف کتاب کا طویل سوانحی مضمون ہے ۔ اس مضمون کے علاوہ  صفحہ 74 سے 159 تک اہل علم و دانش کے  تعزیتی تاثرات ہیں۔

ان اہل علم و ادنش میں چند نام ڈاکٹر حسن رضا خان ، مفتی اشرف رضا صدیقی، پروفیسر فاروق احمد صدیقی، مفتی ڈاکٹر امجد رضا امجد، مولانا ریحان رضا انجم مصباحی ، مولانا ناظم علی رضوی مصباحی ، مولانا توفیق احسن برکاتی، اسسٹنٹ پرو فیسر ثناء الله مصباحی اور ڈاکٹر محمد نیاز احمد مصباحی وغیرہ ہیں. 

مولف کتاب مولانا محمد آفتاب مصباحی نے اپنے استاد مفتی ایوب رضوی صاحب کی زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ہے ۔ اس لیے ان کی زندگی کے بہت سے پہلوؤں کا ذاتی مشاہدہ ان کی تحریر میں نظر آتا ہے ۔ مفتی ایوب صاحب  ایک بے حد محنتی اور مخلص استاد تھے ۔ سیتامڑھی بہار کے نانپور بلاک میں واقع پنڈول بزرگ میں آزادی ہند کے تقریباً دو سال بعد 5 نومبر 1949 کو مفتی ایوب صاحب کی ولادت ہوئی۔ اس سر زمین کو ایک مجذوب کامل حضرت نعمت علی معروف بہ خاکی بابا سے نسبت خاص ہے ۔ان کے نقوش قدم نے اس سر زمین کو برکت و شہرت سے نوازا ہے۔

مفتی ایوب صاحب کی ابتدائی تعلیم بہار کے مختلف  مدارس میں ہوئی ۔ اعلی' دینی تعلیم کے لیے اتر پردیش کے معروف ادارہ دار العلوم فیض الرسول براؤں شریف میں 1966 میں داخلہ لیا ۔ اس ادارے میں اس وقت اہل سنت کے مستند علما درس دے رہے تھے ۔ مثلاً مفتی جلال الدین امجدی ، شعیب الاولیا حضرت محمد یار علی ، مفتی بدر الدین احمد قادری وغیرہ -

 فیض الرسول براؤں شریف کے بعد اس زمانے میں مشہور دینی ادارے دارالعلوم منظرحق ٹانڈہ میں داخلہ لیا۔ اس ادارہ میں کئی کتابوں کے مصنف اوراپنے عہد کے بہترین واعظ علامہ عبد المصطفی اعظمی بھی استاد تھے ۔ جن کی شفقت اور تربیت نے مفتی ایوب صاحب کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کیا. 

مفتی ایوب صاحب زمانہ طالب علمی ہی سے محنتی، ذہین اور علم کے شیدائی تھے ۔ درسی و نصابی موضوعات و مضامین کے علاوہ دیگر مضامین کو سیکھنے کا جذبہ اس قدر تھا کہ دارالعلوم منظر حق ٹانڈہ میں طالب علمی کے زمانے میں ہر ہفتہ ٹانڈہ سے چره محمد پور فیض آباد کا سفر کرتے تھے ۔ کیوں کہ وہاں مختلف نادر علوم و فنون کے ماہر حضرت علامہ خواجہ مظفر حسین رضوی صاحب سے اکتساب فیض کرنا تھا۔ خواجہ مظفر حسین رضوی صاحب، علم توقیت، علم ہیئت ، علم فلکیات، لوگارثم اور ریاضی کے ماہر عالم  تھے.

70 کی دہائی میں ان  سے اکتساب فیض کے لیے مفتی ایوب صاحب  ہر ہفتہ تقریباً 80 کیلومیٹر کا سفر کرتے تھے ۔ مدرسے کے طالب علم ویسے ہی غربت کا شکار ہوتے ہیں ۔ حیرانی کی بات کہ ان دنوں انہوں نے ہر ہفتہ یہ خرچیلا جوکھم اٹھایا. 

 بہر حال مولانا محمد آفتاب مصباحی نے ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر تحقیق و تفتیش کے بعد ان کی زندگی کے مخفی گوشوں کو اجاگر کیا ہے۔ مفتی ایوب صاحب  اس قدر سادگی پسند انسان تھے کہ شہرت و ناموری سے ہمیشہ کنارہ کش ہی رہے.انہوں نے اپنے فرض منصبی کی ادائیگی میں خود کو وقف کر دیا تھا. قلندری کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے شہرت  اور نام و نمود والا کبھی کوئی کام نہیں کیا.

جس ادارے میں آپ نے تعلیم حاصل کی اسی دار العلوم منظر حق ٹانڈہ میں آپ نے تقریباً تین دہائی تک تدریس کے فرائض انجام دیے ۔ سینکڑوں طلبہ کو علوم دینیہ سے منور کیا۔ آج وہ طلبہ ملک کے طول و عرض میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں. ساتھ ہی مفتی صاحب نے تقریباً تیس برسوں  تک فتوی نویسی بھی کی۔

مولانا آفتاب مصباحی نے ذکر کیا ہے کہ ان کے فتاوی پانچ ۔ چھ ضخیم مجلد رجسٹر میں محفوظ ہیں . جو منظر حق ٹانڈہ کی تحویل میں ہیں ۔ امید ہے کہ  انکے فتاوی کی اشاعت کے بعد ان کی علمی شخصیت کے مزید پہلو روشن ہوں گے۔ فتاوی کے علاوہ ان کی دو علمی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں :

(1)مقدس روز و شب

(2)ضیائے نقش پا و خاکی بابا


مفتی ایوب صاحب کی شخصیت پر  یہ سوانحی کتاب ایک شاگرد کا ہدیہ خلوص بھی ہے اور ہم سب کی جانب سے فرض کفایہ بھی۔ کیوں کہ  بہار خصوصاً شمالی بہار کے جس خطے سے ہمارا تعلق ہے یہاں 'اکابر فراموشی' عام ہے. اس خطے میں  اہل علم و فضل اور ناموروں کو بھلا دینے کا یہ عالم ہے کہ بہت سے نیک نام گمنام ہو چکے ہیں. ایسے میں

مولانا محمد آفتاب مصباحی نے اہم کام انجام دیا ہے. یہ کام آسان بھی نہیں ہے کیوں کہ انہوں نے  نقش اول بلکہ اولین ماخذ پیش کیا ہے۔ اور نقش اول قائم کرنا آسان کام نہیں ہوتا۔ اس نوعیت کا تجربہ مجھے بھی ہے. 2007 میں مدھوبنی ضلع سے تعلق رکھنے والے معتبر عالم دین مفتی عبد الحفیظ  پر ایک سوانحی مضمون لکھا تھا۔ مہینوں متعدد گاؤں کی دھول چھانی ( دھول والے راستوں میں سائکل پر کئی گاؤں کی سواری کی)  ان کی زندگی کے نقوش ڈھونڈنے کے لیے ان کے متعدد رفقا و معاصرین سے انٹرویو کیا.ان کے گھر جا کر ان کے دستاویز اور تعلیمی اسناد دیکھا پھر جا کہ بمشکل 10 صفحہ کا ایک مضمون تیار ہو پایا تھا ۔

بہر حال مولانا آفتاب مصباحی کی اس  تالیف  کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے ان کی محنت اور پریشانیوں کا بھرپور اندازہ ہے. ان کی محنت لائق ستائش ہے. 

مولانا آفتاب مصباحی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اپنے استاد اور اپنے صوبہ بہار کی ایک عظیم شخصیت کی زندگی کو اس سوانحی کتاب میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا ۔ مصباحی صاحب عربی و فارسی پر اچھی گرفت رکھتے ہیں اس لیے ان کی تحریر میں عربی وفارسی کے فقرے، مصرعے اور اشعار بھی جا بجا نظر آتے ہیں.

صحافت اور اردو ادب سے بھی آفتاب مصباحی صاحب کا رشتہ ہے لیکن انہوں نے عالم  دین کی سوانح لکھنے کے لیے عالمانہ اسلوب  کو ترجیحی طور پر اختیار کیا ہے. 

 چوں کہ کتاب عجلت میں شائع ہوئی اس لیے کچھ باتیں، جملے  اور الفاظ نظر ثانی کے محتاج نظر آئے۔ چند مواقع پر بے ترتیبی اور تکرار و اعادہ بھی ہے. کتاب کا نصف حصہ تعزیتی تاثرات کے لیے وقف ہوکر رہ گیا ہے ۔ میں نے تقریباً سبھی تاثراتی تحریریں اس نیت سے پڑھیں کہ شاید مفتی ایوب صاحب کی زندگی سے متعلق کسی اور گوشے سے واقفیت ہو سکے. لیکن اکثر تاثرات میں عقیدت اور تعزیت کے جملے ہی مکرر ہوئے. ویسے یہ بھی حقیقت ہے کہ تعزیتی تاثرات میں بالعموم عقیدت بھرے جملے ہی ہوتے ہیں.  لیکن  ڈاکٹر محمد نیاز احمد مصباحی اور مولانا ریحان انجم مصباحی کی تحریریں ان تمام تاثراتی تحریروں میں منفرد معلوم ہوئیں۔  ان دونوں نے تاثرات لکھتے لکھتے با ضابطہ  مضمون قلمبند کر دیا ہے ۔ان دونوں تحریروں میں  مفتی ایوب صاحب کے زندگی اور شخصیت کے پہلوؤں کو منضبط طریقے سے پیش کیا گیا ہے. 

  "نام نیک رفتگاں ضائع مکن" کے مصداق یہ کتاب اہمیت سے خالی نہیں ہے. 

یہ کتاب ایک محنتی، فرض شناس عالم و مفتی کو خراج عقیدت ہے اور سپاس نامہ بھی۔ 



شکریہ

محمد حسین

جے نگر مدھوبنی ۔

3-11-2026


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بہار کے ہائی اسکول سے اردو غائب کرنے کا ماسٹر پلان

ڈاکٹر شمشیر علی کے ساتھ جنک پور نیپال کی سیر

بہارمیں208 نئے ڈگری کالجوں کا قیام: اردو کی اسامیاں صفر