اشاعتیں

ڈاکٹر شمشیر علی کے ساتھ جنک پور نیپال کی سیر

تصویر
ڈاکٹر محمد حسین جے نگر مدھوبنی  12/02/2026  ہمارے ضلع مدھوبنی کے پرانے ساتھی ڈاکٹر شمشیر علی مصباحی پہلی بار ہمارے گھر بلکہ ہمارے شہر جے نگر تشریف لائے. ڈاکٹر صاحب فی الوقت پورنیہ ضلع میں اردو مترجم کے عہدے پر فائز ہیں. اس سے قبل دربھنگہ سی ایم آرٹس کالج میں  تدریسی خدمات بھی انجام دے چکے ہیں. شمشیر بھائی حافظ قرآن بھی ہیں اور عالم دین بھی ہیں. جامعہ اشرفیہ مبارکپور سے دینیات کی تعلیم حاصل کی ہے. پھر عصری تعلیم کے لیے انہوں نے  علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا. علی گڑھ سے بی اے ایم اے، پی ایچ ڈی تک کا تعلیمی سفر مکمل کیا.ان کے تحقیقی و ادبی مضامین ملک کے معیاری رسالوں میں شائع ہوتے رہتے ہیں. ان کی ایک تحقیقی کتاب "اردو صحافت : جنگ آزادی اور قومی یکجہتی" شائع ہو چکی ہے. خوشی کی بات یہ ہے کہ شمشیر بھائی ہمارے ضلع کے جنوبی خطے میں دربھنگہ ضلع کی سرحد پر واقع گاؤں شکری سے تعلق رکھتے ہیں اور میں ایک دم شمال میں نیپال کی سرحد پر واقع جے نگر سے تعلق رکھتا ہوں. شمیشر بھائی کا ہمارے علاقے کی طرف کبھی آنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا. دو چار دنوں کی رخصت میں گھر آئے تھے تو انہوں نے خ...

م سرور پنڈولوی کی شعری کائنات

تصویر
 ع   بیٹھتا ہے کون اب کہ جنوری کی دھوپ میں.  (سرور پنڈولوی)  جنوری کی یخ بستہ صبحوں اور سرد ہوا کے جھونکوں میں دنیا کے بے شمار کامگاروں کی طرح میں بھی روزانہ صبح سویرے اپنی مزدوری پر نکل جاتا ہوں. جے نگر ریلوے اسٹیشن سے ٹرین کے ذریعے اپنے ضلع کے جنوب میں واقع پنڈول اسٹیشن پر اتر جاتا ہوں. وہاں سے میرے کارگہ عمل کی مسافت 12 کیلومیٹر ہے. جس کےلیے پنڈول کے ہمارے رفیق کار شاہنواز محمد کے ہم رکاب ان کی دو پہیہ کے ذریعے دھندھ سے دو دو ہاتھ کرتے ہوئے بل کھاتی سڑکوں اور سرد ہواؤں کے دریا کو عبور کرتے ہیں. خیر بات یوں ہے کہ پنڈول میں ہمارے ضلع کے معروف شاعر م سرور پنڈولوی کی رہائش گاہ ہے. ایک دن کے فیس بک پوسٹ سے انہیں  خبر ہو گئی کہ میں روزانہ ان کے دروازے سے گزرتا ہوں. انہوں نے شکوہ کیا کہ ان سے ملے بغیر ان کے دروازے سے گزر جاتا ہوں. تو ان کی شکایت دور کرتے ہوئے پچھلے تین دنوں سے ملاقات کا سلسلہ جاری ہے. وقت کی تنگی ہوتی ہے پھر بھی ملاقات کا موقع نکال لیا. ایک دن کی ملاقات میں انہوں نے اپنا شعری مجموعہ "جزیرہ، خوابوں کا" عنایت کیا. سرور پنڈولوی صاحب سائنس اور ریاضی کے ...

"شاد کا نظریہ آغاز زبان اردو" کا حاصل مطالعہ

تصویر
رسالہ آج کل سائز میں مختصر ضرور ہوا ہے لیکن اس کے معیاری مشمولات میں تخفیف نہیں ہوئی ہے. اکتوبر، نومبر 2025 کا شمارہ مجھے ایک ساتھ دستیاب ہوا ہے. اس لیے دسمبر کے ماہ میں اکتوبر کے شمارہ سے آغاز کر رہا ہوں. اس شمارہ میں اکثر قلم کاروں کے نام میرے لیے اجنبی نہیں ہیں، ڈاکٹر ہمایوں اشرف، ڈاکٹر قسیم اختر، حامد رضا صدیقی، عبدالرزاق زیادی، خورشید اکرم، صدر عالم گوہر وغیرہ وہ نام ہیں جن کی تحریروں کے علاوہ ان سے ذاتی طور پر بھی ملاقات بات بھی رہی ہے. سب جانے پہچانے ہیں. اس شمارہ میں اداریہ کے بعد پہلا مضمون ڈاکٹر محمد منہاج الدین کا ہے. مضمون کا عنوان "شاد عظیم آبادی کا نظریہ آغاز زبان اردو" ہے. مضمون کے عنوان نے مجھے اس مضمون کو بغور پڑھنے پر آمادہ کر لیا. مضون کے اولین دو صفحات پڑھتے ہوئے میرا تجسس بڑھتا گیا کیوں کہ دو صفحات تک شاد کے نظریہ کی تلاش جاری تھی.. اولین دو صفحات میں ڈاکٹر منہاج الدین نے پاننی کے اشٹادھیائے سے لے کر، میر امن کے باغ و بہار، سرسید کے آثار الصنادید، سراج الدین علی خان آرزو کے "مُثمِر"، رائل ایشاٹک سوسائٹی کے سالانہ جلسہ میں دیے گئے سر ولیم جونز کے...

قاضی نیپال حضرت علامہ مفتی عثمان برکاتی : حیات و خدمت

تصویر
 نوٹ :یہ مضمون مفتی صاحب کے شعری مجموعہ نور کا صدقہ میں شامل ہے.   

بہار کے ہائی اسکول سے اردو غائب کرنے کا ماسٹر پلان

تصویر
بہار کے ہائی اسکول سے اردو کوغائب کرنے کا ماسٹر پلان         محمد حسین ریسرچ اسکالر،شعبہ اردو،دہلی یونی ورسٹی۔ ای میل : hussaindu21@gmail.com بہار کے اردو حلقے میں محکمہ تعلیم کے  ایک حکم نامے کی وجہ سے بے چینی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ محکمہ تعلیم نے۔ 15 ،مارچ 2020 ء کو ایک حکم نامہ  جاری کیا ہے)فائل نمبر- 11 : -/ 799 یہ حکم نامہ در اصل  ہائی اسکولوں میں اساتذہ کی تقرری اور نشستوں کی تعداد میں پہلے سے موجود ضوابط میں ترمیم سے متعلق   ہے۔ اس حکم نامے  میں مذکور ہے کہ پہلے بہار کے  ہائی اسکولوں میں کلاس ۶ سے دسویں جماعت تک کی تعلیم  ہوتی تھی اسی طرح 8  ویں جماعت سے10  ویں جماعت تک کی تعلیم ہوا کرتی تھی ۔جس میں  کچھ عرصہ پہلے ہی تبدیلی آچکی ہے اب ہائی اسکول میں 9  ویں اور 10 ویں جماعت کی ہی تعلیم کا نظم ہے۔ حکومت بہار نے اسی تبدیلی کو دلیل بنا کر اساتذہ کی اسامیوں اور تقرریوں کے سلسلے میں پہلے سے  موجوداصولی  پیمانے (مانک منڈل)میں بھی تبدیلی کر دی۔کیوں کہ پہلے ہائی اسکول میں 6 ...

مشرق وسطیٰ میں قیام امن کا مسئلہ

تصویر
  محمد حسین        حال ہی میں خلیجی ممالک میں سے ایک ابھرتی ہوئی معیشت متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ اپنے دیرینہ خفیہ تعلقات کو تقویت دیتے ہوئے’’امارات – اسرائیل امن معاہدہ ‘‘ کا   اعلان کیا جس میں امریکہ نے   ثالث کا کردار ادا کیا ۔ اس امن معاہدے کو مغربی میڈیا میں جوش و خروش سے کوریج دی گئی اور اسے   ’’تاریخی امن معاہدہ ‘‘ کہا گیا ۔ متحدہ عرب امارات کے ساتھ اسرائیل نواز مغربی ممالک میں اس معاہدے کا جشن   منایا گیا ۔جب کہ فلسطین ،ایران اور ترکی نے متحدہ عرب امارات کے اس اقدام کی جم کر مذمت کی اور اسے غداری اور دھوکے بازی سے تعبیر کیا ۔ امارات نے اسرائیل سے اپنے تعلقات استوار کرنے سے پہلے فلسطین کواپنے عزائم سے باخبر کرنے کی بھی زحمت نہیں کی۔ اسرائیل اور یواے ای کے تعلقات کے تاریخی تسلسل پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاہدہ تو ابھی ظہور میں آیا ہے لیکن امارات اور اسرائیل کا یارانہ برسوں سے جاری ہے ۔سلامتی امور میں امارات پہلے سے ہی اسرائیل کے رابطے میں ہے۔اس امن معاہدہ کے ذریعے امارات نے اسرائیل کے موجودہ صدر نتین یاہو او...

مغرب میں مولانا روم کی حیرت انگیز مقبولیت

تصویر
 ۔ یورپ و امریکہ میں مولانا روم کی مثنوی ایک زمانے سے بے حد مقبول ہے ۔2007 میں عالمی ثقافتی ادارہ یونیسکو نے Year of Rumiمنانے کا اعلان کیا تھا ۔یونیسکو کی ایما پر مختلف ممالک میں مولانا رومی کی خدمات کے اعتراف میں متعدد پروگرام منعقد ہوئے ۔ مولانا روم جنہیں عرف عام میں رومی سے یا د کیا جاتا ہے ان کا اصلی نام محمد بن محمد جلال الدین ہے ۔آپ کی ولادت 6ربیع الاول 604ھ مطابق 1207ء میں بلخ میں ہوئی جو کہ فی الوقت تاجکستان میں واقع ہے ۔آپ کے والد شیخ بہاءالدین بھی ایک زبردست عالم دین تھے سلطان محمد خوارزم شاہ شیخ بہاءالدین کے حلقہ بگوشوں میں سے تھا۔آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے ہی حاصل کی ۔1231ء میں آپ کے والد کا انتقال ہوگیا۔اس کے بعد آپ نے شام اور دمشق میں تعلیم حاصل کی ۔اسی درمیان آپ کی ملاقات حضرت شمس تبریزی علیہ الرحمہ سے ہو ئی ۔حضرت شمس تبریزعارف کامل تھے ۔اس لیے مولانا جلال الدین نے ان کی شاگردی اختیار کی ۔تبریزی صحبت کا یہ اثر ہوا کہ مولانا روم عالم و واعظ ہونے کے ساتھ عارف و صوفی بھی ہو گئے ۔مولانا روم کو اپنے پیر و مرشد سے اس قدر قلبی ارادت تھی کہ ان کے وصال کے بعد ہمیشہ ...