ڈاکٹر محمد حسین جے نگر مدھوبنی 12/02/2026 ہمارے ضلع مدھوبنی کے پرانے ساتھی ڈاکٹر شمشیر علی مصباحی پہلی بار ہمارے گھر بلکہ ہمارے شہر جے نگر تشریف لائے. ڈاکٹر صاحب فی الوقت پورنیہ ضلع میں اردو مترجم کے عہدے پر فائز ہیں. اس سے قبل دربھنگہ سی ایم آرٹس کالج میں تدریسی خدمات بھی انجام دے چکے ہیں. شمشیر بھائی حافظ قرآن بھی ہیں اور عالم دین بھی ہیں. جامعہ اشرفیہ مبارکپور سے دینیات کی تعلیم حاصل کی ہے. پھر عصری تعلیم کے لیے انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا. علی گڑھ سے بی اے ایم اے، پی ایچ ڈی تک کا تعلیمی سفر مکمل کیا.ان کے تحقیقی و ادبی مضامین ملک کے معیاری رسالوں میں شائع ہوتے رہتے ہیں. ان کی ایک تحقیقی کتاب "اردو صحافت : جنگ آزادی اور قومی یکجہتی" شائع ہو چکی ہے. خوشی کی بات یہ ہے کہ شمشیر بھائی ہمارے ضلع کے جنوبی خطے میں دربھنگہ ضلع کی سرحد پر واقع گاؤں شکری سے تعلق رکھتے ہیں اور میں ایک دم شمال میں نیپال کی سرحد پر واقع جے نگر سے تعلق رکھتا ہوں. شمیشر بھائی کا ہمارے علاقے کی طرف کبھی آنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا. دو چار دنوں کی رخصت میں گھر آئے تھے تو انہوں نے خ...
بہارمیں 208 نئے ڈگری کالجوں کا قیام : اردو کی اسامیاں صفر از : ڈاکٹر محمد حسین۔ جے نگر ،مدھوبنی اردو زبان اپنی ہی جنم بھومی میں بارہا لسانی تعصب اور سیاسی عصبیت کا شکار ہوتی رہی ہے۔ اسے کبھی " غیروں کی زبان " قرار دیا گیا تو کبھی اسے صرف ایک مخصوص طبقے تک محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔ تازہ ترین افسوسناک صورتحال ریاست بہار میں سامنے آئی ہے، جہاں حکومت نے 208 نئے ڈگری کالجز کے قیام کی منظوری تو دے دی ہے، لیکن ان کالجوں کے تعلیمی ڈھانچے سے اردو، عربی اور فارسی جیسے مضامین کو یکسر خارج کر دیا گیا ہے۔ ماضی میں حکومتی سطح پر اردو دشمنی کا یہ عالم ہوتا تھا کہ اسامیوں میں کٹوتی کر دی جاتی تھی یا کوئی قانونی گتھی الجھا دی جاتی تھی، لیکن اس بار تو نہایت دیدہ دلیری کے ساتھ ریاست کی دوسری سرکاری زبان اردو کے وجود کو ہی مٹانے کی کوشش کی گئی ہے۔ 208 کالجوں میں اردو کے ایک بھی اسسٹنٹ پروفیسر کی نشست مختص نہ کرنا کھلے طور پر ...
ع بیٹھتا ہے کون اب کہ جنوری کی دھوپ میں. (سرور پنڈولوی) جنوری کی یخ بستہ صبحوں اور سرد ہوا کے جھونکوں میں دنیا کے بے شمار کامگاروں کی طرح میں بھی روزانہ صبح سویرے اپنی مزدوری پر نکل جاتا ہوں. جے نگر ریلوے اسٹیشن سے ٹرین کے ذریعے اپنے ضلع کے جنوب میں واقع پنڈول اسٹیشن پر اتر جاتا ہوں. وہاں سے میرے کارگہ عمل کی مسافت 12 کیلومیٹر ہے. جس کےلیے پنڈول کے ہمارے رفیق کار شاہنواز محمد کے ہم رکاب ان کی دو پہیہ کے ذریعے دھندھ سے دو دو ہاتھ کرتے ہوئے بل کھاتی سڑکوں اور سرد ہواؤں کے دریا کو عبور کرتے ہیں. خیر بات یوں ہے کہ پنڈول میں ہمارے ضلع کے معروف شاعر م سرور پنڈولوی کی رہائش گاہ ہے. ایک دن کے فیس بک پوسٹ سے انہیں خبر ہو گئی کہ میں روزانہ ان کے دروازے سے گزرتا ہوں. انہوں نے شکوہ کیا کہ ان سے ملے بغیر ان کے دروازے سے گزر جاتا ہوں. تو ان کی شکایت دور کرتے ہوئے پچھلے تین دنوں سے ملاقات کا سلسلہ جاری ہے. وقت کی تنگی ہوتی ہے پھر بھی ملاقات کا موقع نکال لیا. ایک دن کی ملاقات میں انہوں نے اپنا شعری مجموعہ "جزیرہ، خوابوں کا" عنایت کیا. سرور پنڈولوی صاحب سائنس اور ریاضی کے ...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں