بہار کے ہائی اسکول سے اردو کوغائب کرنے کا ماسٹر پلان محمد حسین ریسرچ اسکالر،شعبہ اردو،دہلی یونی ورسٹی۔ ای میل : hussaindu21@gmail.com بہار کے اردو حلقے میں محکمہ تعلیم کے ایک حکم نامے کی وجہ سے بے چینی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ محکمہ تعلیم نے۔ 15 ،مارچ 2020 ء کو ایک حکم نامہ جاری کیا ہے)فائل نمبر- 11 : -/ 799 یہ حکم نامہ در اصل ہائی اسکولوں میں اساتذہ کی تقرری اور نشستوں کی تعداد میں پہلے سے موجود ضوابط میں ترمیم سے متعلق ہے۔ اس حکم نامے میں مذکور ہے کہ پہلے بہار کے ہائی اسکولوں میں کلاس ۶ سے دسویں جماعت تک کی تعلیم ہوتی تھی اسی طرح 8 ویں جماعت سے10 ویں جماعت تک کی تعلیم ہوا کرتی تھی ۔جس میں کچھ عرصہ پہلے ہی تبدیلی آچکی ہے اب ہائی اسکول میں 9 ویں اور 10 ویں جماعت کی ہی تعلیم کا نظم ہے۔ حکومت بہار نے اسی تبدیلی کو دلیل بنا کر اساتذہ کی اسامیوں اور تقرریوں کے سلسلے میں پہلے سے موجوداصولی پیمانے (مانک منڈل)میں بھی تبدیلی کر دی۔کیوں کہ پہلے ہائی اسکول میں 6 ...
ڈاکٹر محمد حسین جے نگر مدھوبنی 12/02/2026 ہمارے ضلع مدھوبنی کے پرانے ساتھی ڈاکٹر شمشیر علی مصباحی پہلی بار ہمارے گھر بلکہ ہمارے شہر جے نگر تشریف لائے. ڈاکٹر صاحب فی الوقت پورنیہ ضلع میں اردو مترجم کے عہدے پر فائز ہیں. اس سے قبل دربھنگہ سی ایم آرٹس کالج میں تدریسی خدمات بھی انجام دے چکے ہیں. شمشیر بھائی حافظ قرآن بھی ہیں اور عالم دین بھی ہیں. جامعہ اشرفیہ مبارکپور سے دینیات کی تعلیم حاصل کی ہے. پھر عصری تعلیم کے لیے انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا. علی گڑھ سے بی اے ایم اے، پی ایچ ڈی تک کا تعلیمی سفر مکمل کیا.ان کے تحقیقی و ادبی مضامین ملک کے معیاری رسالوں میں شائع ہوتے رہتے ہیں. ان کی ایک تحقیقی کتاب "اردو صحافت : جنگ آزادی اور قومی یکجہتی" شائع ہو چکی ہے. خوشی کی بات یہ ہے کہ شمشیر بھائی ہمارے ضلع کے جنوبی خطے میں دربھنگہ ضلع کی سرحد پر واقع گاؤں شکری سے تعلق رکھتے ہیں اور میں ایک دم شمال میں نیپال کی سرحد پر واقع جے نگر سے تعلق رکھتا ہوں. شمیشر بھائی کا ہمارے علاقے کی طرف کبھی آنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا. دو چار دنوں کی رخصت میں گھر آئے تھے تو انہوں نے خ...
بہارمیں 208 نئے ڈگری کالجوں کا قیام : اردو کی اسامیاں صفر از : ڈاکٹر محمد حسین۔ جے نگر ،مدھوبنی اردو زبان اپنی ہی جنم بھومی میں بارہا لسانی تعصب اور سیاسی عصبیت کا شکار ہوتی رہی ہے۔ اسے کبھی " غیروں کی زبان " قرار دیا گیا تو کبھی اسے صرف ایک مخصوص طبقے تک محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔ تازہ ترین افسوسناک صورتحال ریاست بہار میں سامنے آئی ہے، جہاں حکومت نے 208 نئے ڈگری کالجز کے قیام کی منظوری تو دے دی ہے، لیکن ان کالجوں کے تعلیمی ڈھانچے سے اردو، عربی اور فارسی جیسے مضامین کو یکسر خارج کر دیا گیا ہے۔ ماضی میں حکومتی سطح پر اردو دشمنی کا یہ عالم ہوتا تھا کہ اسامیوں میں کٹوتی کر دی جاتی تھی یا کوئی قانونی گتھی الجھا دی جاتی تھی، لیکن اس بار تو نہایت دیدہ دلیری کے ساتھ ریاست کی دوسری سرکاری زبان اردو کے وجود کو ہی مٹانے کی کوشش کی گئی ہے۔ 208 کالجوں میں اردو کے ایک بھی اسسٹنٹ پروفیسر کی نشست مختص نہ کرنا کھلے طور پر ...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں